ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 380 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 380

ہو تو غم نہیں کرنا چاہیے کیونکہ بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں جن کو تم پسند کرتے ہو اور وہ اچھی نہیں ہوتی ہیں اور بہت سی ایسی ہوتی ہیں جن کو تم ناپسند کرتے ہو اور وہ درحقیقت تمہارے لیے مفید ہوتی ہیں۔یہ خدا تعالیٰ کا ارشاد بالکل سچ۱ ہے اورمَیں یقیناً جانتا ہوںکہ اب وقت آنے والا ہے کہ اس کی شہادت کی حکمت نکلنے والی ہے اور میں نے سنا ہے کہ اس وقت چودہ آدمی قید کئے گئے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ عبداللطیف کو ناحق شہید کرایا گیا ہے اور یہ ظلم ہواہے وہ حق پر تھا۔اس پرامیر نے ان آدمیوں کو قید کردیا ہے اور ان کے وارثوں کو کہا ہے کہ وہ ان کو سمجھائیں کہ ایسے خیالات سے وہ باز آجائیں مگر وہ موت کو پسند کرتے ہیں اور اس یقینی بات کو وہ چھوڑ نا نہیں چاہتے اگر عبداللطیف شہید نہ ہوا ہوتا تو یہ اثر کس طرح پیدا ہوتا اور یہ رعب کس طرح پرپڑتا۔یقیناً سمجھو کہ خدا تعالیٰ نے کسی بڑی چیز کا ارادہ کیا ہے اور اس کی بنیاد عبداللطیف کی شہادت سے پڑی ہے اگر مولوی عبداللطیف زندہ رہتے تودس بیس برس تک زندہ رہتے آخرموت آ جاتی اورموت آنی ہے اس سے تو آدمی بچ نہیں سکتا مگر یہ موت موت نہیں یہ زندگی ہے اور اس سے مفید نتیجے پیدا ہونیوالے ہیں اور یہ مبارک بات ہے۔دشمن بھی اگر خبیث نہ ہو تو براہین احمدیہ کی پیشگوئی کو پڑھ کر اور اس کے اس طرح پر پوری ہونے کو دیکھ کراس نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے کہ اگر مفتری ہے اور رات کو جھوٹاالہام بناکر سنادیتا ہے تو یہ اثراستقامت کیوں ہوا اور ۲۳ یا۲۴ سال کے بعد ایک بات جو بطور ۱ البدرمیں یہ حصہ زیادہ مفصل لکھا ہے۔’’چو نکہ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ اس خون سے مجھ پراور کل جماعت پر ایک بڑا صدمہ گذرے گا اس لیے پھر اس سے آگے وہ تسلی دیتا ہے کہ اس مصیبت اور اس سخت صدمہ سے تم غمگین اور اداس مت ہو۔خدا تعالیٰ تمہارے ساتھ ہے وہ دو کے عوض ایک قوم تمہارے پاس لائے گا وہ اپنے بندے کے لیے کافی ہے۔کیا تم نہیں جانتے کہ خدا ہر ایک شَے پر قادر ہے ان کی شہادت میں حکمتِ الٰہی ہے۔بہت امور ہیں جو تم چاہتے ہو کہ وقوع میں آویں حالانکہ ان کا واقع ہونا تمہارے لیے اچھا نہیں اور بہت ہیں جو تم چاہتے ہو کہ واقع نہ ہوں حالانکہ ان کا واقع ہونا تمہارے لیے اچھا ہوتا ہے سووہ حکمتِ الٰہی عنقریب ظاہر ہو گی اور معلوم ہو گا کہ اس خون میں کس قدر برکات ہیں۔‘‘ (البدر جلد ۳نمبر۳ مورخہ ۱۶؍جنوری ۱۹۰۴ء صفحہ۵)