ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 379 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 379

جو انسان کو ہوتی ہے اس نے مقدم نہیں کیا بلکہ دین کو مقدم کیا جس کا اس نے خدا کے سامنے وعدہ کیا تھا کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔میں بار بار کہتا ہوں کہ اس پاک نمونہ پر غور کرو کیونکہ اس کی شہادت یہی نہیں کہ اعلیٰ ایمان کا ایک نمونہ پیش کرتی ہے بلکہ یہ خدا تعالیٰ کا عظیم الشان نشان ہے جو اور بھی ایمان کی مضبوطی کا موجب ہوتا ہے کیونکہ براہین احمدیہ میں ۲۳ برس پہلے سے اس شہادت کے متعلق پیشگوئی موجود تھی وہاں صاف لکھا ہے شَاتَانِ تُذْبَـحَانِ وَکُلُّ مَنْ عَلَیْـھَافَانٍ کیا اس وقت کوئی منصوبہ ہوسکتا تھا کہ ۲۳ یا ۲۴ سال بعد عبدالرحمٰن اور عبداللطیف افغانستان سے آئیں گے اور پھر وہ وہاں جا کر شہید ہوںگے۔وہ دل لعنتی ہے جو ایسا خیال کرے۔یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے جو عظیم الشان پیشگوئی پر مشتمل ہے اور اپنے وقت پر آکر یہ نشان پورا ہو گیا۔۱ اس سے پہلے عبدالرحمٰن جو مولوی عبداللطیف شہید کا شاگر د تھا سابق امیر نے قتل کرایا محض اس وجہ سے کہ وہ اس سلسلہ میں داخل ہے اور یہ سلسلہ جہاد کے خلاف ہے اور عبدالرحمٰن جہاد کے خلاف تعلیم افغانستان میں پھیلاتا تھا اور اب اس امیر نے مولوی عبداللطیف کو شہید کرادیا۔یہ عظیم الشان نشان جماعت کے لیے ہے اس پیشگوئی کے معنے اب مخالفوں سے پو چھو کہ کیا یہ پیشگوئی صریح الفاظ میں نہیں ہے؟ اور کیا اب یہ پوری نہیں ہو گئی ہے؟ کیونکہ انگریزوں کے ملک میں تو کوئی کسی کو بے گناہ ذبح نہیں کرتا ہے اس لیے یہاں تو اس کا وقوع نہیں ہونا تھا اور علاوہ بریں ہماری تعلیم ایسی تعلیم نہیں تھی کہ کوئی اس کو پکڑسکے بلکہ یہ تعلیم توامن کے پھیلانے والی ہے پھر یہ پیشگوئی کیسے پوری ہوتی؟ اس لیے خدا تعالیٰ نے اس نشان کے پوراکرنے کے لیے کابل کی سرزمین کو مقدر کیا ہوا تھا اور آخر ۲۴ سال کے بعد یہ پیشگوئی ٹھیک اسی طرح پوری ہوئی جس طرح پہلے فرمایا گیا تھا اس سے آگے اللہ تعالیٰ فر ماتا ہے عَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَيْـًٔا وَّ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ(البقرۃ:۲۱۷) یہ ایک قسم کی تسلی ہے یعنی جب ایسا معاملہ البدر سے۔’’ براہین احمدیہ میں اس کی نسبت پیشگوئی موجودتھی اور یہ وہ کتاب ہے جو آج سے ۲۳، ۲۴ برس قبل ہر ایک جگہ اور ہر ایک فرقہ اور ملّت حتی کہ امریکہ یورپ وغیرہ میں شائع ہو چکی ہے اور موجود ہے۔جو لوگ خدا کے وجود سے انکار کرتے ہیں وہ بتلاویں کہ اگر خدا تعالیٰ کی ذات موجود نہیں تواس واقعہ کی خبر اس قدر عرصہ دراز پیشتر ہونی اور اس کا اسی طرح واقعہ ہونا اس کے کیا معنے ہیں؟‘‘ (البدر جلد ۳نمبر۳ مورخہ ۱۶؍جنوری ۱۹۰۴ءصفحہ۵)