ملفوظات (جلد 5) — Page 378
بِاللّٰهِ فَاِذَاۤ اُوْذِيَ فِي اللّٰهِ (العنکبوت:۱۱)۔جماعت کو استقلال اور ہمت کی تلقین ہماری جماعت کو یادرکھنا چاہیے کہ جب تک وہ بزدلی کو نہ چھوڑے گی اور استقلال اور ہمت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی ہر ایک راہ میں ہر مصیبت ومشکل کے اٹھانے کے لیے طیار نہ رہے گی وہ صالحین میں داخل نہیں ہوسکتی۔تم نے اس وقت خدا تعالیٰ کے قائم کردہ سلسلہ کے ساتھ تعلق پیدا کیا ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ تم دکھ دئیے جاؤ۔تم کو ستایا جاتا ہے۔گالیاں سننی پڑتی ہیں قوم اور برادری سے خارج کرنے کی دھمکیاں ملتی ہیں۔جو جو تکالیف مخالفوں کے خیال میں آسکتی ہیں اس کے دینے کو وہ موقع ہاتھ سے نہیں دیتے لیکن اگرتم نے ان تکالیف اور مشکلات اور ان موذیوں کو خدا نہیں بنایا بلکہ اللہ تعالیٰ کو خدا ماناہے تو ان تکالیف کو برداشت کرنے پرآمادہ رہو اور ہر ابتلا اور امتحان میں پورے اترنے کے لیے کوشش کرو اور اللہ تعالیٰ سے اس کی توفیق اور مدد چاہو تو میں تمہیں یقیناً کہتا ہوںکہ تم صالحین میں داخل ہو کر خدا جیسی عظیم الشان نعمت کو پاؤگے اور ان تمام مشکلات پر فتح پاکر دارالامان میں داخل ہو جاؤگے۔صاحبزادہ عبداللطیف کی شہادت صاحبزادہ عبداللطیف شہیدکی شہادت کا واقعہ تمہارے لیے اسوئہ حسنہ ہے۔تذکرۃ الشہادتین کو بار بار پڑھو اور دیکھو کہ اس نے اپنے ایمان کا کیسا نمونہ دکھایا ہے۔اس نے دنیا اور اس کے تعلقات کی کچھ بھی پروا نہیں کی بیوی یا بچوں کا غم اس کے ایمان پر کوئی اثر نہیں ڈال سکا۔دنیوی عزّت اور منصب اور تنعم نے اس کو بزدل نہیں بنایا۔اس نے جان دینی گوارا کی مگر ایمان کو ضائع نہیں کیا عبداللطیف کہنے کو مارا گیا یا مَر گیا مگر یقیناً سمجھو کہ وہ زندہ ہے اور کبھی نہیں مَرے گا اگرچہ اس کو بہت عرصہ صحبت میں رہنے کا اتفاق نہیں ہوا لیکن اس تھوڑی مدت میں جو وہ یہاں رہا اس نے عظیم الشان فائدہ اٹھایا۔اس کو قسم قسم کے لالچ دئیے گئے کہ اس کا مرتبہ ومنصب بدستور قائم رہے گا مگر اس نے اس عزّت افزائی اور دنیوی مفاد کی کچھ بھی پروا نہیں کی ان کو ہیچ سمجھا یہاں تک کہ جان جیسی عزیز شَے کو