ملفوظات (جلد 5) — Page 370
ملفوظات حضرت مسیح موعود ٣٧٠ جلد پنجم ہے وہ بڑا ہی بابرکت ہوتا ہے اور جو انسان کے اپنے ہاتھ سے ہو وہ با برکت نہیں ہوسکتا۔ اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ جب تک خدا کا فضل اور اسی کے ہاتھ سے نہ ہو تو کچھ نہیں ہوتا۔ پس محض اپنی سعی اور کوشش سے طہارت نفس پیدا ہو جاوے یہ خیال باطل ہے لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ پھر انسان کوشش نہ کرے اور مجاہدہ نہ کرے ۔ نہیں بلکہ کوشش اور مجاہدہ ضروری ہے اور سعی کرنا فرض ہے خدا تعالیٰ کا فضل سچی محنت اور کوشش کو ضائع نہیں کرتا اس واسطے ان تمام تدابیر اور مساعی کو چھوڑنا نہیں چاہیے جو اصلاح نفس کے لیے ضروری ہیں مگر یہ تجاویز اور تدابیر اپنے نفس اور خیال سے پیدا کی ہوئی نہیں ہونی چاہئیں بلکہ ان تدابیر کو اختیار کرنا چاہیے جن کو خود اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے اور جو کے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کر کے دکھائی ہیں ۔ آپ کے قدم پر قدم مارو اور پھر دعاؤں سے کام لو۔ تم ناپاکی کے کیچڑ میں پھنسے ہوئے ہو مگر خدا تعالیٰ کے فضل کے بغیر صرف تدبیروں سے صاف چشمہ تک نہیں پہنچ سکتے جو طہارت کا موجب بنے ۔ بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو خدا تعالیٰ کو چھوڑتے ہیں اور اپنی تدبیروں پر بھروسہ کرتے ہیں وہ احتیاطیں کرتے کرتے خود مبتلا ہو جاتے ہیں اور پھنس جاتے ہیں۔ اس واسطے کہ خدا کا فضل ان کے ساتھ نہیں ہوتا اور ان کی دستگیری نہیں کی جاتی ۔ خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر اپنی تجویز اور خیال سے اگر کوئی اصلاح نفس کرنے کا مدعی ہو وہ جھوٹا ہے۔ اصلاح نفس کی ایک راہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی ہے۔ كُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ (التوبة : ۱۱۹) یعنی جو لوگ قولی فعلی عملی اور حالی رنگ میں سچائی پر قائم ہیں ان کے ساتھ رہو اس سے پہلے فرمایا يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ ( التوبة : ۱۱۹) یعنی ایمان والو! تقویٰ اللہ اختیار کرو اس سے یہ مراد ہے کہ پہلے ایمان ہو پھر سنت کے طور پر بدی کی جگہ کو چھوڑ دے اور صادقوں کی صحبت میں رہے صحبت کا بہت بڑا اثر ہوتا ہے جو اندر ہی اندر ہوتا چلا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص ہر روز کنجریوں کے ہاں جاتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ کیا میں زنا کرتا ہوں؟ اس سے کہنا چاہیے کہ ہاں تو کرے گا اور وہ ایک نہ ایک دن اس میں مبتلا ہو جاوے گا کیونکہ صحبت میں تاخیر ہوتی ہے اسی طرح پر جو شخص شراب خانہ میں جاتا ہے خواہ وہ کتنا ہی پر ہیز