ملفوظات (جلد 5) — Page 367
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۶۷ جلد پنجم والے کے لیے عادت اللہ میں ہے کہ اسے یہاں سزا دی جاتی ہے وہ نہیں مرتا جب تک سزا نہیں پالیتا ۔ یا درکھو کہ صرف اتنی ہی بات کا نام نیکی نہیں ہے۔ تقومی ادنیٰ مرتبہ ہے اس کی مثال تو ایسی ہے جیسے کسی برتن کو اچھی طرح سے صاف کیا جاوے تا کہ اس میں اعلیٰ درجہ کا لطیف کھانا ڈالا جائے اب اگر کسی برتن کو خوب صاف کر کے رکھ دیا جائے لیکن اس میں کھانا نہ ڈالا جائے تو کیا اس سے پیٹ بھر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں ۔ کیا وہ خالی برتن طعام سے سیر کر دے گا ؟ ہر گز نہیں اسی طرح پر تقویٰ کو سمجھو۔ تقویٰ کیا ہے نفس امارہ کے برتن کو صاف کرنا ۔ اس تقوی کو کیا ہے کے پر کو او نفس کو تین قسم پر تقسیم کیا ہے نفس امارہ نفس لوامہ نفس مطمئنہ ۔ ایک نفس کی کی تین حالتیں نفس زکیہ بھی ہوتا ہے مگر وہ بچپن کی حالت ہے۔ جب گناہ ؟ جب ہوتا ہی گناہ ہوتا ہی نہیں اس لیے اس نفس کو چھوڑ کر بلوغ کے بعد تین نفسوں ہی کی بحث کی ہے۔ نفس امارہ کی وہ حالت ہے جب انسان شیطان اور نفس کا بندہ ہوتا ہے اور نفسانی خواہشوں کا غلام اور اسیر ہو جاتا ہے جو حکم نفس کرتا ہے اس کی تعمیل کے واسطے اس طرح طیار ہو جاتا ہے جیسے ایک غلام دست بستہ اپنے مالک کے حکم کی تعمیل تعمیل کے لیے مستعد ہوتا ہے اس وقت یہ نفس کا غلام ہو کر جو وہ کہے یہ کرتا ہے وہ کہے خون کر ۔ تو یہ کرتا ہے۔ زنا کہے، چوری کہے ، غرض جو کچھ بھی کہے سب کے لئے طیار ہوتا ہے کوئی بدی ، کوئی برا کام ہو جو نفس کہے یہ غلاموں کی طرح کر دیتا ہے یہ نفس اتارہ کی حالت ہے اور یہ وہ شخص ہے جو نفس اتارہ کا تابع ہے۔ اس کے بعد نفس لوامہ ہے یہ ایسی حالت ہے کہ گناہ تو اس سے بھی سرزد ہوتے رہتے ہیں مگر وہ نفس کو ملامت بھی کرتا رہتا ہے اور اس تدبیر اور کوشش میں لگا رہتا ہے کہ اسے گناہ سے نجات مل جائے جو لوگ نفس لوامہ کے ماتحت یا اس حالت میں ہوتے ہیں وہ ایک جنگ کی حالت میں ہوتے ہیں یعنی ل البدر میں ہے۔ ” تقویٰ تو صرف نفس الا تارہ کے برتن کو صاف کرنے کا نام ہے اور نیکی وہ کھانا ہے جو اس میں پڑنا ہے اور جس نے اعضا کو قوت دے کر انسان کو اس قابل بنانا ہے کہ اس سے نیک اعمال صادر ہوں اور وہ بلند مراتب قرب الہی کے حاصل کر سکے۔“ (البدر جلد ۳ نمبر ۳ مورخه ۱۶ جنوری ۱۹۰۴ ء صفحه (۳)