ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 366 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 366

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۶۶ جلد پنجم الگ ہو جاتا ہے جیسے سانپ اپنی کینچلی سے باہر آ جاتا ہے۔ اس طرح پر جب انسان نفسانیت کی کینچلی سے باہر آجاتا ہے تو وہ مومن ہوتا ہے اور ایمان کامل کے آثار اس میں پائے جاتے ہیں ۔ چنانچہ فرمایا ہے اِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَ الَّذِينَ هُمْ مُّحْسِنُونَ (النحل : ۱۲۹) یعنی بے شک اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور جو تقوی سے بھی بڑھ کر کام کرتے ہیں یعنی محسنین ہوتے ہیں ۔ - تقوی کے معنی ہیں بدی کی باریک راہوں سے پر ہیز کرنا۔ مگر یاد رکھو نیکی اتنی نہیں حقیقی نیکی ہے اگر ایک شخص کہے کہ میں ایک ہوں اس لیے میں نے کسی کامال نہیں لیا، نقب زنی نہیں کی ، چوری نہیں کرتا ، بد نظری اور زنا نہیں کرتا۔ ایسی نیکی عارف کے نزدیک ہنسی کے قابل ہے کیونکہ اگر وہ ان بدیوں کا ارتکاب کرے اور چوری یا ڈاکہ زنی کرے تو وہ سزا پائے گا۔ پس یہ کوئی نیکی نہیں کہ جو عارف کی نگاہ میں قابل قدر ہو بلکہ اصلی اور حقیقی نیکی یہ ہے کہ نوع انسان کی خدمت کرے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں کامل صدق اور وفاداری دکھلائے اور اس کی راہ میں جان تک دے دینے کو طیار ہو۔ اسی لیے یہاں فرمایا ہے اِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَ الَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ یعنی الله تعالى ان کے ساتھ ہے جو بدی سے پر ہیز کرتے ہیں اور ساتھ ہی نیکیاں بھی کرتے ہیں ۔ یہ خوب یا د رکھو کہ نرا بدی سے پر ہیز کرنا کوئی خوبی کی بات نہیں جب تک اُس کے ساتھ نیکیاں نہ کرے۔ بہت سے لوگ ایسے موجود ہوں گے جنہوں نے کبھی زنا نہیں کیا ، خون نہیں کیا، چوری نہیں کی ، ڈاکہ نہیں مارا اور باوجود اس کے نہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں کوئی صدق و وفا کا نمونہ انہوں نے دکھایا یا نوع انسان کی کوئی خدمت نہیں کی اور اس طرح پر کوئی نیکی نہیں کی ۔ پس جاہل ہوگا وہ شخص جوان باتوں کو پیش کر کے اسے نیکو کاروں میں داخل کرے کیونکہ یہ تو بد چلنیاں ہیں صرف اتنے خیال سے اولیاء اللہ میں داخل نہیں ہو جاتا۔ بد چلنی کرنے والے چوری یا خیانت کرنے والے، رشوت لینے ل البدر میں یہ فقرہ یوں ہے۔ ” خدا نے کبھی اس بات کو پسند نہیں کیا کہ صرف بد چلنی نہ کرنے والا اس کے اولیاء میں داخل ہوا ہو ۔ ہوا ہو ۔ البدر جلد ۳ نمبر ۳ مورخه ۱۶ جنوری ۱۹۰۴ ء صفحه (۳)