ملفوظات (جلد 5) — Page 365
جونمازیں ریا کاری سے بھری ہوئی ہوں، نمازوں کو ہم کیا کریں اور ان سے کیا فائد ہ؟۱ حقیقی نماز نماز اس وقت حقیقی نماز کہلاتی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ سے سچا اور پاک تعلق ہو اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور اطاعت میں اس حد تک فنا ہو اور یہاں تک دین کو دنیا پر مقدم کرلے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں جان تک دے دینے اور مَرنے کے لئے طیار ہو جائے جب یہ حالت انسان میں پیدا ہو جائے اس وقت کہا جائے گا کہ اس کی نماز نماز ہے مگر جب تک یہ حقیقت انسان کے اندر پیدا نہیں ہوتی اور سچا اخلاص اور وفاداری کا نمونہ نہیں دکھلاتا اس وقت تک اس کی نمازیں اور دوسرے اعمال بے اثر ہیں۔بہت سی مخلوق ایسی ہے کہ لوگ ان کو مومن اور راست باز سمجھتے ہیں مگر آسمان پر ان کا نام کافر ہے۔۲ اس واسطے حقیقی مومن اور راستباز وہی ہے جس کا نام آسمان پر مومن ہے۔دنیا کی نظرمیں خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ کہلاتا ہو۔حقیقت میں یہ بہت ہی مشکل گھاٹی ہے کہ انسان سچا ایمان لاوے اور خدا تعالیٰ کے ساتھ کامل اخلاص ا وروفاداری کا نمونہ دکھلاوے۔جب انسان سچا ایمان لاتا ہے تو اس کے بہت سے نشانات ہو جاتے ہیں۔قرآن شریف نے سچے مومنوں کی جو علامات بیان کی ہیں وہ ان میں پائی جاتی ہیں۔ان علامات میں سے ایک بڑی علامت جو حقیقی ایمان کی ہے وہ یہی ہے کہ جب انسان دُنیاکو پائوں کے نیچے کچل کر اس سے اس طرح پر ۱ البدر میں ہے۔ـ’’اگر ان کی آرزوئیں اور مُرادیں پوری ہوتی رہیں تو وہ خدا کو مانتے رہیں گے اور اگر نہ پوری ہوں تو پھر اس سے ناراض اور شکایت کا دفتر کھلاہو ا ہے تو جن کی یہ حالت ہے اور ان میں صدق ووفا نہیں ہے خدا ان کی نمازوں کو کیا کرے وہ خدا کے نزدیک ہرگز نمازی نہیں ہیں اور ان کی نمازیں سوائے اس کے کہ زمین پر ٹکریں ماریں اور کچھ حکم نہیں رکھتیں‘‘۔(البدر جلد ۳ نمبر۳ مورخہ ۱۶؍جنوری ۱۹۰۴ء صفحہ۳ ) ۲ البدر میں ہے۔’’بہت سے ایسے لوگ ہیں کہ مخلوق کے نزدیک راستباز ہیں، متقی ہیں، نیک بخت ہیں لیکن ان کا تعلق خدا سے صاف نہیں ہے اور وہ محویت اور دین کا تقدم دنیا پر جو خدا چاہتا ہے ان میں نہیں ہے۔اس لیے خدا کے نزدیک وہ کافر ہیں۔سچے ایمانداروں کی جو علامات ہیں اگر اُن سے تم اُن کو پر کھو تو ایک بھی اُن میں نظر نہ آوے گی۔‘‘ (البدر جلد ۳ نمبر۳ مورخہ ۱۶؍جنوری ۱۹۰۴ء صفحہ۳ )