ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 364 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 364

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۶۴ جلد پنجم یا د رکھو اور سمجھو کہ آنحضرت صلی اللہ مامور کے وقت کس چیز کی ضرورت ہوتی ہے علیہ وسلم کے وقت میں یا یہود تورات کو چھوڑ بیٹھے تھے اور اس پر ان کا عمل نہ تھا ؟ ہر گز نہیں یہودی تو اب تک بھی تو رات کو مانتے اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ان کی قربانیاں اور رسوم آج بھی اسی طرح ہوتی ہیں جیسے اس وقت کرتے تھے وہ برابر آج تک بیت المقدس کو اپنا قبلہ سمجھتے ہیں اور اسی کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں۔ ان کے بڑے بڑے عالم اور احبار بھی اس وقت موجود تھے اس وقت پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور کتاب اللہ کی کیا ضرورت پڑی تھی ؟ دوسری طرف عیسائی قوم تھی ان میں بھی ایک فرقہ لا الهَ الا اللہ کو مانتا تھا پھر کیا وجہ تھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا اور کتاب اللہ کو بھیجا ؟ یہ ایک سوال ہے جس پر ہمارے مخالفوں اور ایسا اعتراض کرنے والوں کو غور کرنا چاہیے اگر چہ یہ ایک بار یک مسئلہ ہے لیکن جو لوگ غور اور فکر کرتے ہیں ان کے لیے بار یک نہیں ہے۔ یا درکھو اللہ تعالیٰ روح اور روحانیت پر نظر کرتا ہے وہ ظاہری اعمال پر نظر اور نگاہ نہیں کرتا وہ ان کی حقیقت اور اندرونی حالت کو دیکھتا ہے ہے کہ کہ ان اعمال کی کی تہہ میں خود خود غرضی اور اور نفسانیت ہے ہے یا یا اللہ تعالیٰ تعالی ک کی سچی اطاعت اور اخلاص مگر انسان بعض وقت ظاہری اعمال کو دیکھ کر دھوکا کھا جاتا ہے۔ جس کے کی اطاعت اور اخلاص مگر انسان، بعض ہاتھ میں تسبیح ہے یا وہ تہجد واشراق پڑھتا ہے بظاہر ابرار و اخیار کے کام کرتا ہے تو اس کو نیک سمجھ لیتا ہے مگر خدا تعالیٰ کو تو پوست کے پسند نہیں ۔ یہ پوست اور قشر ہے اللہ تعالیٰ اس کو پسند نہیں کرتا اور کبھی راضی نہیں ہوتا جب تک وفاداری اور صدق نہ ہو بے وفا آدمی کتے کی طرح ہے جو مُردار دنیا پر گرے ہوئے ہوتے ہیں وہ بظاہر نیک بھی نظر آتے ہیں لیکن افعال ذمیمہ ان میں پائے جاتے ہیں اور پوشیدہ بد چلنیاں ان میں پائی جاتی ہیں ل البدر میں ہے ۔ ایک انسان تو اس سے دھوکا کھا سکتا ہے مگر خدا نہیں کھا سکتا کیونکہ اس کی نظر پوست پر نہیں ہے وہ تو روحانیت کو چاہتا ہے جو کہ مغز ہے نہ کہ قشر کو “ ( البدر جلد ۳ نمبر ۳ مورخه ۱۶ جنوری ۱۹۰۴ء صفحه (۳)