ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 363 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 363

نمازروزہ نہیں کرتے ہیں وہ اس طرح پر دھوکا دیتے ہیں اور کچھ تعجب نہیں کہ بعض لوگ جو ناواقف ہوتے ہیں ایسی باتوں کو سن کر دھوکا کھا جاویں اور ان کے ساتھ مل کر یہ کہہ دیں کہ جس حالت میں ہم نماز پڑھتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں اور وِردوظائف کرتے ہیں پھر کیوں یہ پھوٹ ڈال دی۔یاد رکھو کہ ایسی باتیں کم سمجھی اور معرفت کے نہ ہونے کا نتیجہ ہے۔میرا اپناکام نہیں ہے یہ پھوٹ اگر ڈال دی ہے تو اللہ تعالیٰ نے ڈالی ہے جس نے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے کیونکہ ایمانی حالت کمزور ہوتے ہوتے یہاں تک نوبت پہنچ گئی ہے کہ ایمانی قوت بالکل معدوم ہی ہو گئی ہے اور اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ حقیقی ایمان کی روح پھونکے جو اس سلسلہ کے ذریعہ سے اس نے چاہا ہے۔ایسی صورت میں ان لوگوں کا اعتراض بے جااور بیہودہ ہے۔پس یادرکھو کہ ایسا وسوسہ ہرگز ہرگز کسی کے دل میں نہیں آنا چاہیے اور اگر پورے غور اور فکر سے کام لیا جاوے تو یہ وسوسہ آہی نہیں سکتا۔غور سے کام نہ لینے کے سبب ہی سے وسوسہ آتا ہے جو ظاہری حالت پر نظر کرکے کہہ دیتے ہیں کہ اور بھی مسلمان ہیں اس قسم کے وسوسوں سے انسان جلد ہلاک ہو جاتا ہے۔میں نے بعض خطوط اس قسم کے لوگوں کے دیکھے ہیں جو بظاہر ہمارے سلسلہ میں ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم سے جب یہ کہا گیا کہ دوسرے مسلمان بھی بظاہر نماز پڑھتے ہیں اور کلمہ پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں اور نیک کام کرتے ہیں اور نیک معلوم ہوتے ہیں پھر اس نئے سلسلہ کی کیا حاجت ہے؟ یہ لوگ باوجودیکہ ہماری بیعت میں داخل ہیں ایسے وسوسے اور اعتراض سن کر لکھتے ہیں کہ ہم کو اس کا جواب نہیں آیا۔ایسے خطوط پڑھ کر مجھے ایسے لوگوں پر افسوس اور رحم آتا ہے کہ انہوں نے ہماری اصل غرض اور منشا کو نہیں سمجھا۔وہ صرف دیکھتے ہیں کہ رسمی طور پر یہ لوگ ہماری طرح شعائرِاسلام بجالاتے ہیں اور فرائض الٰہی ادا کرتے ہیں حالانکہ حقیقت کی روح ان میں نہیں ہوتی اس لیے یہ باتیں اور وساوس سحر کی طرح کام کرتے ہیں وہ ایسے وقت نہیں سوچتے کہ ہم حقیقی ایمان پیدا کرنا چاہتے ہیں جو انسان کو گناہ کی موت سے بچا لیتا ہے اور ان رسوم وعادات کے پیرولوگوں میں وہ بات نہیں ان کی نظر ظاہر پر ہے حقیقت پر نگاہ نہیں۔ان کے ہاتھ میں چھلکا ہے جس میں مغزنہیں۔