ملفوظات (جلد 5) — Page 28
کیسی پوری ہوتی ہے اور انگریز بھی اسی واسطے شور مچاتے ہیں کہ یہی زمانہ ہے جس میں ہمارے مسیح کو دوبا رہ آنا چاہیے۔یہ مسئلہ ایسا مطابق آیا ہے کہ کوئی مذہب اس سے انکار کرہی نہیں سکتا۔یہ ایک علمی نشان ہے جس سے کوئی گریز نہیں ہوسکتا۔رؤیا کا اختتام ایک بھائی کے خواب بیان کرنے پر فرمایا کہ یہ خواب ایک عجیب بات پر ختم ہوا ہے۔۔۔۔۔شیطان انسان کو طرح طرح کے تمثلات سے دھوکا دینا چاہتا ہے مگر معلوم ہوا کہ تمہارا نتیجہ بہت اچھا ہے کیونکہ اس رئویا کا اختتام اچھی جگہ پرواقع ہوا ہے۔ایسا اکثر ہوا کرتا ہے چنانچہ ایک اولیاء اللہ کا تذکرہ لکھا ہے کہ جب ان کا انتقال ہوا تو اُن کا آخری کلمہ یہ تھا کہ ابھی نہیں ابھی نہیں۔ایک ان کا مرید یہ کلمہ سن کر سخت متعجب ہوا اور رات دن رو رو کر دعائیں مانگنے لگا کہ یہ کیا معاملہ ہے۔ایک دن خواب میں ان سے ملاقات ہو گئی۔دریافت کیا کہ یہ آخری لفظ کیا تھا اور آپ نے کیوں کہا تھا؟ جواب دیا کہ شیطان چونکہ موت کے وقت ہر ایک انسان پر حملہ کرتا ہے کہ اس کا نورِ ایمان آخیروقت پرچھین لے۔اس لیے حسبِ معمول وہ میرے پاس بھی آیااور مجھے مرتدکرنا چاہا اور میںنے جب اس کا کوئی وار چلنے نہیں دیا تو مجھے کہنے لگا کہ تو میرے ہاتھ سے بچ نکلا۔اس لیے میں نے کہا کہ ابھی نہیں ابھی نہیں یعنی جب تک میں مَرنہ جائوں مجھے تجھ سے اطمینان حاصل نہیں۔ایک رئویا پھرفرمایا۔آج رات مجھے بھی خواب آیا ہے نہ معلوم اس کے اصل مفہوم کیا ہیں میں نے اس کے لفظوں سے اجتہادی معنے نکالے ہیں۔جیسا کہ میں کسی راستہ پر چلا جاتا ہوں۔گھرکے لوگ بھی ساتھ ہیں اور مبارک احمد کو میں نے گود میں لیا ہو اہے بعض جگہ نشیب وفراز بھی آ جاتا ہے جیسے کہ دیوار کے برابر چڑھنا پڑتا ہے مگر آسانی سے اُتر چڑھ جاتا ہوں اور مبارک اسی طرح میری گود میں ہے۔ارادہ ہے کہ ایک مسجدمیں جانا ہے۔جاتے جاتے ایک گھر میں جا داخل ہوئے ہیں۔گویا وہ گھر ہی مسجد موعود ہے جس کی طرف ہم جا رہے ہیں اندر جا کردیکھا ۱الحکم جلد۷نمبر۱۵ مورخہ۲۴؍اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ۶