ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 346 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 346

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۴۶ جلد پنجم اور کوئی وجہ ایمان بالغیب کی باقی نہیں رہتی تو اس وقت ایمان لاتے ہیں جیسے فرعون کہ جب غرق ہونے لگا تو اس وقت اقرار کیا۔ عمر کا اعتبار نہیں ہے غافل رہ کر اس بات کی انتظار کرنی کہ خدا خود خبر دیوے یہ نادانی ہے اب تو خود وقت ہی ایسا ہے کہ انسان خود سمجھ سکتا ہے۔ دیکھنا چاہیے کہ اسلام کی کیا حالت ہے۔ کیا ظاہری اور کیا باطنی طور پر صلیبی مذہب غالب ہو گیا ہے تو کیا اب ان وعدوں کے رُو سے جو کہ قرآن میں ہیں یہ وقت نہ تھا کہ خدا اپنے دین کی مدد کرتا۔ اس کے علاوہ مدعی اور اس کے دعوی کے دلائل کو دیکھے اور غور کرے۔ جو پیاسا ہے وہ دور رہ کر کنوئیں سے یہ کہے کہ پانی میرے منہ میں خود بخود آ جاوے یہ نادانی ہے اور ایسا شخص خدا کی بے ادبی کرتا ہے۔ وہ گناہ مشتقی کی تعریف تقو اس بات کا نام ہےکہ جب وہ دیکھے ہیں ان میں پڑتا ہوں تو دعا اور تدبیر سے کام لیوے ورنہ نادان ہوگا ۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے مَنْ عدا تعالیٰ فرماتا ہے مَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ (الطلاق: (۳، ۴) کہ جو : ۳، ۴) کہ جو شخص تقوی اختیار کرتا ہے وہ ہر ایک مشکل اور تنگی سے نجات کی راہ اس کے لیے پیدا کر دیتا ہے۔ متقی درحقیقت وہ ہے کہ جہاں تک اس کی قدرت اور طاقت ہے وہ تدبیر اور تجویز سے کام لیتا ہے جیسا کہ قرآن شریف کے شروع میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے الم ذَلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (البقرة : ٢) رة: ۲ تا ۴ ایمان بالغیب کے یہ معنے ہیں کہ وہ خدا سے اُڑ نہیں باندھتے بلکہ جو بات پردہ غیب میں ہو اس کو قرائن مرجحہ کے لحاظ سے قبول کرتے ہیں اور دیکھ لیتے ہیں کہ صدق کے وجوہ کذب کے وجوہ پر غالب ہیں۔ یہ بڑی غلطی ہے کہ انسان یہ خیال رکھے کہ آفتاب کی طرح ہر ایک ایمانی امر اس پر منکشف ہو جاوے۔ اگر ایسا ہو تو پھر بتلاؤ کہ اس کے ثواب حاصل کرنے کا کون سا موقع ملا ؟ کیا ہم اگر آفتاب کو دیکھ کر کہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے تو ہم کو ثواب ملتا ہے؟ ہرگز نہیں ۔ کیوں؟ صرف اس لئے کہ اس میں غیب کا پہلو کوئی بھی نہیں لیکن جب ملائکہ، خدا اور قیامت وغیرہ پر ایمان لاتے ہیں تو ثواب ملتا ہے۔ اس کی یہی وجہ ہے کہ