ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 345 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 345

بیعت نہ کروں گا۔چونکہ ان کلمات سے خدا کے انعامات واکرام کی ناقدر شناسی متر شح ہوتی تھی۔اس پر خدا کے برگزیدہ نے فرمایا۔خدا کی قدیم سے عادت ہے کہ صابروں کے سب کام وہ آپ کرتا ہے اور بے صبری سے ابتلا پیش آتا ہے۔ہماری شریعت میں طلبِ اسباب حرام نہیں ہے ان پر بھروسہ اور توکّل ضرور حرام ہے اس لیے کوشش کو ہاتھ سے نہ چھوڑنا چاہیے۔خدا تعالیٰ قرآن شریف میں قسم کھاتا ہے فَالْمُدَبِّرٰتِ۠ اَمْرًا (النّٰزِعٰت:۶) ماسوااس کے خدا پر توکّل اور دعا کرنے سے برکت حاصل ہوتی ہے۔سعید آدمی جلدباز نہیں ہوتا اور نہ وہ خدا سے جلد بازی کرتا ہے خدا کا قانونِ قدرت ہے کہ ہر ایک اَمر بتدریج ہوتا ہے۔آج تم تخم ریزی کرو تووہ آہستہ آہستہ ایک دانہ سے ایک درخت بن جاوے گا۔آج اگر رحم میں نطفہ پڑے تو وہ آخر نو ماہ میں جاکر بچہ بنے گا خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ صبر کرنے والوں کو بے حساب بدلہ دیاجاوے گا۔سنّت اللہ کی اتباع انسان کو کرنی چاہیے۔جب تک خدا خود رُشد اور ہدایت نہ دے تو کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔مومنوں کے طبقات انبیاء کی صحبت میں کس کس قدر لوگ رہتے تھے مگر سب ایک وقت ایمان نہیں لائے۔کوئی کسی وقت کوئی کسی وقت۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص تھا اس نے آپ کا مبارک زمانہ دیکھا مگر ایمان نہ لایا۔پھر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا زمانہ دیکھا پھر بھی ایمان نہ لایا۔اس سے وجہ پوچھی گئی تو بتلایا کہ کچھ میرے شبہات باقی تھے اور کچھ آثار پورے ہونے والے تھے چونکہ اب وہ پورے ہوئے ہیں اس لیے اب میں ایمان لایا ہوں۔لیکن یہ اس کی غلطی تھی۔خدا نے مومنوں کے مختلف طبقات پیدا کئے ہیں لیکن ان میں سے وہ لوگ بہت تعریف کے قابل ہیں جو کسی راستباز کو چہرہ دیکھ کر شناخت کر لیتے ہیں۔ایمان لانے والے تین قسم کے آدمی ہوتے ہیں ایک تو وہ جو چہرہ دیکھ کر ایمان لاتے ہیں دوسرے وہ جو نشان دیکھ کر مانتے ہیں۔تیسرا ایک ارذل گروہ جب ہر طرح سے غلبہ حاصل ہوجاتا ہے