ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 341 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 341

۱۱؍دسمبر ۱۹۰۳ء خلقِ طیور اور احیائِ موتیٰ کی حقیقت شام کے بعد حضرت مولوی نور الدین صاحب نے عرض کیا کہ دھرمپال (نو آریہ)نے خلقِ طیور پر اور احیائِ موتیٰ پر بھی اعتراض کیا ہے۔اس پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ اصل میں خلقِ طیور اور احیائِ موتیٰ پر ہمارا یہ ایمان نہیں ہے کہ اس سے ایسے پرندے مُراد ہیں جن کا ذبح کرکے گوشت بھی کھایا جاسکے اور نہ احیائے موتیٰ سے یہ مطلب ہے کہ حقیقی مُردہ کا احیاء کیا گیا بلکہ مُراد یہ ہے کہ خلقِ طیور اس قسم کا تھا کہ حد اعجاز تک پہنچا ہوا تھا اور احیائِ موتیٰ کے یہ معنے ہیں کہ (۱) روحانی زندگی عطا کی جاوے (۲) یہ کہ بذریعہ دعا ایسے انسان کو شفا دی جاوے کہ وہ گویا مُردوں میں شمار ہوچکا ہو جیسا کہ عام بول چال میں کہا جاتا ہے کہ فلاں تو مَر کر جیا ہے۔لیکن ان باتوں کو لکھنے کی کیا ضرورت ہے بلکہ ان سے صاف طور سے پوچھا جاوے کہ آیا تم لوگ صورتِ اعجاز کے قائل ہو یا نہیں؟پس اگر وہ منکر ہیں تو ان کو چاہیے کہ اشتہار دے دیں اور بہت صاف لفظوں میں دیں پھر شاید اللہ تعالیٰ کوئی اور کرشمہ قدرت دکھاوے۔اگرچہ ایک دفعہ وہ ان کو قائل بھی کر چکا ہے۔ہم ان کی یہ باتیں فرداًفرداً نہیں سنتے کہ عصائے موسٰی کیا تھا اور خلقِ طیور کیا تھا وغیرہ وغیرہ۔معجزہ نمائی کا دعویٰ خدا کا فضل ہمارے شاملِ حال ہے اور وہ ہر وقت ہماری تائید کے لیے طیار ہے۔وہ صورتِ اعجاز کا انکار شائع کردیں پھر خدا کی تائید دیکھ لیویں۔قرآن کریم میں جس قدر معجزات آگئے ہیں۔ہم ان کے دکھانے کو زندہ موجود ہیں خواہ قبولیتِ دعا کے متعلق ہوں خوا ہ اور رنگ کے۔معجزہ کے منکر کا یہی جواب ہے کہ اس کو معجزہ دکھایا جاوے اس سے بڑھ کر اور کوئی جواب نہیں ہوسکتا۔۱ البدر جلد ۲ نمبر ۴۷ مورخہ ۱۶ ؍دسمبر ۱۹۰۳ء صفحہ۳۷۴