ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 340 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 340

سے انہوں نے خدمت اسلام کی ہے۔کیونکہ زمانہ فیج اعوج تھا اور مولویوں وغیرہ سے کب یہ بات ہونی تھی کہ اس قدرہندوئوں سے بت پرستی وغیرہ ترک کرواتے۔ان لوگوں نے جو ہزاروں دیویوں اور بتوں کو ترک کیا ہے یہ خدمت اسلام ہی ہے۔ذرا روحانیت ان میں آئی تو فوج در فوج اسلام میں داخل ہوں گے۔پہلے زمانوں میں جب ہندو مسلمان ہوتے تھے وہ در حقیقت انتشارِروحانیت کا زمانہ تھا اس لیے گمراہ رہے۔ا ب جب روحانیت ان میں پیدا ہوئی اور حق کو انہوں نے شناخت کرلیا تو بڑی شرح صدر اور زور سے اسلام میں داخل ہوں گے۔یاد رکھو ایسے لوگوں سے ہرگز نہ ڈرنا چاہیے۔ڈرنا ایسے شخص سے چاہیے جس میں روحانیت ہو اس لیے کہ اس کا حملہ خدا کا حملہ ہوتا ہے۔یَکْسِـرُ الصَّلِیْبَ کے معنے یکسر الصلیب کے یہ معنے نہیں ہیں کہ مسیح آکر اپنے ہاتھ سے صلیبوں کو توڑتا پھرے گا بلکہ کسر صلیب میں یہ بات داخل ہے اور ہر ایک اسے بے تکلف سمجھ سکتا ہے کہ اس زمانہ میں کسر صلیب کے سامان خود مہیا ہوجاویں گے۔اس کام کو ایک انسان (مسیح)کی طرف منسوب کرنامیرے نزدیک شرک ہے۔مطلب یہ ہے کہ مسیح موعود ایسے زمانے کا آدمی ہوگا جس میں یہ سامان موجود ہوں گے اور وہ اس وقت موجود ہیں۔درحقیقت صلیب کا کا سر مسیح موعود نہ ہوگا بلکہ خود خدا ہوگا۔اور یہ خیال بھی غلط ہے کہ کوئی عیسائی دنیا میں نہ رہے گا اسلام ہی اسلام ہوگا جبکہ خدا تعالیٰ خود قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ ان کا وجود قیامت تک رہے گا۔مطلب یہ ہے کہ نصاریٰ کا مذہب ہلاک ہوگا اور عیسائیت نے جو عظمت دلوں پر حاصل کی ہے وہ نہ رہے گی۔۱ ۱ البدر جلد ۲ نمبر ۴۷ مورخہ ۱۶ ؍دسمبر ۱۹۰۳ءصفحہ ۳۷۳، ۳۷۴