ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 339 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 339

وَلَاتُلْقُوْا بِاَيْدِيْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ (البقرۃ:۱۹۶) پس ہم خود آگ میں دیدہ دانستہ نہیں پڑتے بلکہ یہ حفاظت کا وعدہ دشمنوں کے مقابلہ پر ہے کہ اگر وہ آگ میں ہمیں جلانا چاہیں تو ہم ہرگز نہ جلیں گے۔اس لیے میرا ایمان تو یہ ہے کہ ہمیں تکلّف اور تاویل کرنے کی ضرورت نہیں ہے جیسے خدا کے باطنی تصرّفات ہیں ویسے ہی ظاہری بھی ہم مانتے ہیں بلکہ اسی لیے خدا نے اوّل ہی سے الہام کردیا ہوا ہے کہ آگ سے ہمیں مت ڈرا آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔بجز اس طریق کے کہ خدا خود ہی تجلی کرے اور کوئی دوسرا طریق نہیں ہے جس سے اس کی ذات پر یقین کامل حاصل ہو لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ وَ هُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ (الانعام:۱۰۴) سے بھی یہی سمجھ میں آتا ہے کہ ابصار پر وہ آپ ہی روشنی ڈالے تو ڈالے۔ابصار کی مجال نہیں ہے کہ خود اپنی قوت سے اسے شناخت کرلیں۔ان دنوں میں گھر میں کس قدر تکلیف رہی گھر بھر بیماری میں مبتلا تھا لیکن اس نے اوّل ہی تسلی دے دی تھی ع خوش باش کہ عاقبت نکو خواہد بود آریوں کی خدمتِ اسلام آریوں کی زبان درازیاں ہمیں کیا نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ان کے مذہب کی حالت تو افاقۃ الموت ہی معلوم ہوتی ہے۔طبیبوں نے مانا ہے کہ ایسا ہوا کرتا ہے جب ایک شخص مَرنے کے قریب ہوتا ہے بعض اوقات اُٹھ کر بیٹھ جایا کرتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ تندرست ہے مگر معاً موت آدباتی ہے۔سو ان کا شور وشر بھی ایسا ہی ہے۔جس مذہب میں روحانیت اور خدا سے صافی تعلق نہیں ہوتا وہ بہت جلد تباہ ہوجاتا ہے۔آریوں کی شوخی اور اس جوش وخروش سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی زبان درازیوں اور شوخیوں کا بہت جلد خاتمہ ہوگا۔جب موسم بہار ہوتا ہے تو بہت سے کیڑے پیدا ہوتے ہیں پھر جب ان کو پَر لگتے ہیں تو وہ بہت جلد ہلاک ہوجاتے ہیں۔اسی طرح اب خدا کے فضل سے اسلام کے لیے موسم بہار ہے ضرور ہے کہ جب ایسے کیڑے پیدا ہوں۔اب ان کو پَر لگ گئے ہیں پس یہ بھی تھوڑی مدت کے مہمان ہیں اور اگر ذرااور غور سے دیکھا جاوے اور ان کی سبّ وشتم کو الگ کردیا جاوے تو ایک طرح