ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 338 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 338

متعلق دریافت کیا کہ آریہ اس پر اعتراض کرتے ہیں اس پر حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ ان لوگوں کے اعتراض کی اصل جڑ معجزات اور خوارق پر نکتہ چینی کرنا ہے ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے دعویٰ کرتے ہیں اور اسی لیے خدا تعالیٰ نے ہمیں مبعوث کیا ہے کہ قرآن کریم میں جس قدر معجزات اور خوارق انبیاء کے مذکور ہوئے ہیں ان کو خود دکھا کر قرآن کی حقانیت کا ثبوت دیں ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ اگر دنیا کی کوئی قوم ہمیں آگ میں ڈالے یا کسی اَور خطرناک عذاب اور مصیبت میں مبتلا کرنا چاہے تو خدا تعالیٰ اپنے وعدہ کے موافق ضرور ہمیں محفوظ رکھے گا۔بعد اس کے خدا تعالیٰ کے تصرفات اور اپنے بندوں کو عجیب طرح ہلاکت سے نجات دینے کی مثالیں دیتے رہے۔مسیح موعود علیہ السلام کی معجزانہ حفاظت اور اسی کے ضمن میں فرمایا۔ایک دفعہ کا ذکر ہے جب میں سیالکوٹ میں تھا۔ایک مکان میں مَیں اور چند آدمی بیٹھے ہوئے تھے بجلی پڑی اور ہمارا سارا مکان دُھوئیں سے بھر گیا اور اس دروازہ کی چوکھٹ جس کے متصل ایک شخص بیٹھا ہوا تھا ایسی چیری گئی جیسے آرے سے چیری جاتی ہے۔مگر اس کی جان کو کچھ بھی صدمہ نہ پہنچا لیکن اسی دن بجلی تیجا سنگھ کے شوالہ پر بھی پڑی اور ایک لمبا راستہ اس کے اندر کو چکر کھا کر جاتا تھا جہاں ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا وہ تمام چکر بجلی نے بھی کھائے اور جا کر اس پر پڑی اور ایسا جلایا کہ بالکل ایک کوئلے کی شکل اُسے کر دیا پھر یہ خدا کا تصرف نہیں تو کیا ہے کہ ایک شخص کو بچالیا اور ایک کو مار دیا۔خدا نے ہم سے وعدہ فرمایا ہے اور اس پر ہمارا ایمان ہے وہ وعدہ وَ اللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ کا ہے۔آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے پس اسے کوئی مخالف آزما لے اور آگ جلا کر ہمیں اس میں ڈال دے۔آگ ہرگز ہم پر کام نہ کرے گی اور وہ ضرور ہمیں اپنے وعدہ کے موافق بچالے گا،لیکن اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ ہم خود آگ میں کودتے پھریں۔یہ طریق انبیاء کا نہیں خدا تعالیٰ فرماتا ہے