ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 324 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 324

راہ اور سنّت نبوی پر محکم قدم رکھ کر چلیں تا کہ منزل مقصود پر پہنچنے کے لیے ان کو کوئی روک حائل نہ ہو اور یہ چند روزہ زندگی رائیگاں نہ جاوے جو آخرت میں سخت ندامت، ذلّت وحسرت کا باعث ہووے۔اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو توفیق دیوے کہ وہ محض اِبْتِغَآءً لِمَرْضَاتِ اللّٰہِ کی غرض سے راہِ مستقیم پر چل کر منزلِ مقصود پر پہنچ جاویں اور تخلیق انسانی کے اصل مدعا کو پورا کریں۔آمین ثم آمین (۴؍نومبر۱۹۰۳ء) (نوٹ۔باستثنائے ایک شعر کے جو سر عنوان درج ہے باقی اشعار مندرجہ مضمون ہذا اعلیٰ حضرت اقدس جناب امام صادق علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اثنائے تقریر میں نہیں فرمائے تھے مگر چونکہ بجز ایک شعر ؎ بمنزلِ جاناں رسد ہماں مردے کہ ہمہ دم در تلاشِ اودوان باشد کے جو بوقتِ تحریر مضمون ہذاکے بے ساختہ روانی طبع سے احقرکے منہ سے نکل گیا ہے باقی ماندہ اکثر اشعار نے خود حضرت اقدس ہی کی زبان گوہر فشان سے جنم لیا ہوا ہے اور ان مواقعات پر چسپاں بھی تھے اس واسطے مناسب مواقع پر لکھ دئیے گئے ہیں بذاتِ خود بھی یہ حقائق معارف کا ایک خزینہ ہیں وثوق کامل ہے کہ ان کا ان مواقعات مناسبہ پر چسپاں ہونا بفضلہٰ تعالیٰ بہت سے سعید فطرت و راستی پسند طبائع کو تکشیف حقائق وتلخیص دقائق میں مدد دے گا۔جس سے ان کو احقاقِ حق وابطالِ باطل کی توفیق ملے گی اللہ کرے ایسا ہی ہو۔آمین ثم آمین۔والسلام۔۵؍نومبر ۱۹۰۳ء۔امام صادق علیہ الصلوٰۃ والسلام کا کمترین خادم احقرالعباد الٰہ داد احمدی کلارک ضلع شاہ پور حال وار د قادیان )۱ ۵؍نومبر ۱۹۰۳ء اولیاء اصفیاء پر مصائب کی وجہ فرمایا کہ آج کل ہندوستان سے ایک عورت آئی ہوئی ہیں (ان کے خاوند بھی آئے ہوئے تھے)وہ اکثر سوال کرتی رہتی ہیں اور میں ان کو سمجھایا کرتا ہوں۔ایک ۱البدر جلد۲ نمبر۴۵ مورخہ یکم دسمبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۳۵۲ تا ۳۵۴ نیز الحکم جلد ۷نمبر۴۴، ۴۵ مورخہ ۳۰؍نومبر،۱۰؍دسمبر ۱۹۰۳ءصفحہ۷،۸