ملفوظات (جلد 5) — Page 323
قطع نظر ان یبوست مجسم مولویوں و خشک ملا نوں کے موجودہ زمانہ کے فقرا کا گروہ بھی کچھ کم نہیں ہے ان میں ریا کاری وذاتی اغراض کی ایک زہر ہوتی ہے جوآخر کار ان کو ہلاک کر ڈالتی ہے ان کا ہر ایک قول وفعل وعمل ان کی نفسانی اغراض کے تابع ہوتا ہے اور اس میں کوئی نہ کوئی نہاں درنہاں ذاتی غرض مرکوزِ خاطر ہوتی ہے۔مثلاً خواہش مسخرات وطلب ِدنیا وجاہ طلبی وغیرہ وغیرہ تاکہ لوگ ان کی طرف رجوع کریں اور ان کی دنیوی عزّت ومال ومتاع میں ترقی ہو جس سے اپنے نفسِ امّارہ کو خوش رکھیں۔یہ ایسا سمِّ قاتل ہے کہ اس کا انجام ہلاکت ہے بعض ان میں سے زمین کھود کر چلّہ کرتے ہیں نہ یہ حکمِ الٰہی ہے اور نہ سنّتِ طریق نبوی۔ریاکا ری ومکّاری کا خودتراشیدہ ایک خاصہ ڈھنگ ہے تاکہ لوگوں کو دامِ تزویر میں لا یا جاوے اور یہی ان کی دلی غرض ہوتی ہے ان کے ایسے عملوںکی مثال میدانی سراب جیسی ہے کہ دور سے تو خوش نما مصفَّا پانی دکھائی دیتا ہے مگر نزدیک جانے پر اس کی اصل حقیقت کھل جاتی ہے کہ وہ تو صرف آنکھوں کو دھوکا ہی دھوکا تھا۔اس وقت تشنگانِ آبِ زلال کو بجز حسرت وپشیمانی کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا ایسے ریا کا روں کو جہنم سے حصہ ملتا ہے کیونکہ حق تعالیٰ سے وہ بالکل بیگا نے اور کوچہ یار حقیقی سے بالکل نا آشنا ہوتے ہیں وہ معرفت الٰہی میں دل کے مُردہ اور تن بگور ہوتے ہیں شائد ایسوں ہی کے لیے یہ خطاب ہے۔؎ کاملان حیّ اند ہم زیر زمین تو بگوری با حیات این چنین ان کی موت کی حالت عوام کالانعام سے بد تر ہوتی ہے کیونکہ عوام تو سید ھے پن سے جیسا ان کو سمجھ میں آتا ہے ایسا ہی عمل کر لیتے ہیں۔ان کی طبیعت میں کوئی تکلّف نہیں ہوتا بالکل سادگی سے دین العجائز پر چلتے ہیں مگر موجودہ فقرا کا گروہ تو عمداً اغراض نفسانی کو ملحوظ خاطر رکھ کر ان تمام ریا کاری کے کاموں کو ایک مزوِّرانہ طلسمات کے رنگ میں ظاہر کر رہا ہے۔انہیں عاقبت کی کچھ پروا نہیں۔؎ مناز باکلۂ سبز و خرقۂ پشمین کہ زیرِ دلق ملمع فریب ہا باشد سو ہماری جماعت کو چاہیے کہ ایسے تصنّعات سے اپنے آپ کو بچاویں اور اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے