ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 323 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 323

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۲۳ جلد پنجم غرض رکتے نہیں ہرگز خدا کے کام بندوں سے بھلا خالق کے آگے خلق کی کچھ پیش جاتی ہے قطع نظر ان یبوست مجسم مولویوں وخشک ملانوں کے موجودہ زمانہ کے فقرا کا گروہ بھی کچھ کم نہیں ہے ان میں ریا کاری وذاتی اغراض کی ایک زہر ہوتی ہے جو آخر کار ان کو ہلاک کر ڈالتی ہے ان کا ہر ایک قول و فعل و عمل ان کی نفسانی اغراض کے تابع ہوتا ہے اور اس میں کوئی نہ کوئی نہاں در نہاں ذاتی غرض مرکوز خاطر ہوتی ہے۔ مثلاً خواہش مسخرات وطلب دنیا وجاہ طلبی وغیرہ وغیرہ تا کہ لوگ ان کی طرف رجوع کریں اور ان کی دنیوی عزت و مال و متاع میں ترقی ہو جس سے اپنے نفس امارہ کو خوش اپنے امارہ کو رکھیں۔ یہ ایسا سم قاتل ہے کہ اس کا انجام ہلاکت ہے بعض ان میں سے زمین کھود کر چلہ کرتے ہیں نہ یہ حکم الہی ہے اور نہ سنت طریق نبوی۔ ریا کاری و مگاری کا خود تراشیدہ ایک خاصہ ڈھنگ ہے تا کہ لوگوں کو دام تزویر میں لایا جاوے اور یہی ان کی دلی غرض ہوتی ہے ان کے ایسے عملوں کی مثال میدانی سراب جیسی ہے کہ دور سے تو خوش نما مصفا پانی دکھائی دیتا ہے مگر نزدیک جانے پر اس کی اصل حقیقت کھل جاتی ہے کہ وہ تو صرف آنکھوں کو دھوکا ہی دھوکا تھا۔ اس وقت تشنگانِ آب زلال کو بجز حسرت و پشیمانی کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا ایسے ریا کاروں کو جہنم سے حصہ ملتا ہے کیونکہ حق زن ا ہے کیونکہ حق تعالیٰ سے وہ بالکل بیگانے اور کوچہ یار حقیقی سے بالکل نا آشنا ہوتے ہیں وہ معرفت الہی میں دل کے مردہ اور تن بگور ہوتے ہیں شائد ایسوں ہی کے لیے یہ خطاب ہے۔ ه کاملان کی اند ہم زیر زمین تو بگوری با حیات این چنین ان کی موت کی حالت عوام کالانعام سے بدتر ہوتی ہے کیونکہ عوام تو سیدھے پن سے جیسا ان کو سمجھ میں آتا ہے ایسا ہی عمل کر لیتے ہیں ۔ ان کی طبیعت میں کوئی تکلف نہیں ہوتا بالکل سادگی سے دین العجائز پر چلتے ہیں مگر موجودہ فقرا کا گروہ تو عمداً اغراض نفسانی کو ملحوظ خاطر رکھ کر ان تمام ریا کاری کے کاموں کو ایک مزوّرا نہ طلسمات کے رنگ میں ظاہر کر رہا ہے۔ انہیں عاقبت کی کچھ پروا نہیں ۔ مناز باکله سبز و خرقه پشمین که زیر دلق ملمع فریب با باشد سو ہماری جماعت کو چاہیے کہ ایسے تصنّعات سے اپنے آپ کو بچاویں اور اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے ه