ملفوظات (جلد 5) — Page 321
مغلوب کر لیتا ہے اور اس مرحلہ سے اُوپر چڑھنے پر وہ ناپاک روحوں کی بری تحریکات کے نتائج بد سے بالکل محفوظ ہو کر امن الٰہی میں آجاتا ہے اس حالتِ کامیابی وظفر مندی وفائزالمرامی کا نام مطمئنہ ہے۔اس وقت وہ ذات باری تعالیٰ سے آرام یافتہ ہوتا ہے اور اسی منزل پر پہنچ کر سالک کا سلوک ختم ہو جاتا ہے۔تمام تکلّفات اٹھ جاتے ہیں اور بلحاظ مدارج روحانیت کے یہی جدوجہد کی انتہااور اس کامقصود ذاتی ہوتا ہے اس گوہر مقصود کے حصول پر وہ پورا کامیاب وفائزالمرام ہو جاتا ہے۔ہماری بعثت کی علّتِ غائی بھی تو یہی ہے کہ رستہ منزل جاناں کے بھولے بھٹکوں، دل کے اندھوں، جذام ضلالت کے مبتلاؤں، ہلاکت کے گڑھے میں گرنے والے کو رباطنوں کو صراط مستقیم پر چلا کروصالِ ذات ذوالجلال کا شیریں جام پلا یا جاوے اور عرفانِ الٰہی کے اس نقطہ انتہائی تک ان کو پہنچایا جاوے تاکہ ان کو حیاتِ ابدی و راحت دائمی نصیب ہو اور جوارِرحمتِ ایزدی میں جگہ لے کر مست وسرشار رہیں۔ہماری معیت اور صحابت کی پاک تا ثیرات کے ثمراتِ حسنہ بالکل صاف ہیں۔ہاں ان کے ادراک کے لئے فہم رسا چاہیے ان کے حصول کے لیے رشدوصفاچاہیے ساتھ ہی استقامت کے لیے اتّقاچاہیے ورنہ ہماری جانب سے تو چار دانگ عالم کے کانوں میں عرصہ سے کھول کھول کر منادی ہو رہی ہے کہ ؎ بیآمدم کہ رہ صدق را درخشانم بدلستان برم آنرا کہ پارسا باشد کسیکہ سایۂ بال ہماش سودنداد ببایدش کہ دو روزے بظل ما باشد گلے کہ روئے خزان را گہے نخواہد دید بباغ ماست اگر قسمتت رسا باشد ہم نے تو اس مائدہ الٰہی کو ہر کس وناکس کے آگے رکھنے میں کوئی دقیقہ باقی نہیں چھوڑا مگر آگے ان کی اپنی قسمت! ’’وَ مَا عَلَیْنَااِلَّا الْبَلٰغُ۔‘‘ مسیح موعودؑ کی مخالفت اس سے تھوڑا زمانہ پہلے بڑے بڑے علماء لکھ گئے تھے کہ مہدی موعودو مسیح مسعود کی آمد کا زمانہ بالکل قریب ہے بلکہ بعض نے اس کی تائید میں اپنے اپنے مکاشفات بھی لکھے تھے جب اس نعمت کا وقت آیا تو تمام یہودی سیرتوں نے اس کے قبول کرنے سے اعراض کر دیا ہے اور صرف انکار پر ہی اکتفا نہیں کی بلکہ تکذیب پر ایسے تلے ہوئے ہیں