ملفوظات (جلد 5) — Page 320
ہے اور انشراح صدر کے بعد تمام بوجھ ہلکے ہو جاتے ہیں۔ایسا کیوں ہوتا ہے؟ صرف اس لیے کہ ان کو’’ہر کہ در ایزدی یافت بازبردرِدیگر نتافت‘‘ پر حق الیقین ہو جاتا ہے اور اس کی پُر ثمر تاثیرات ان کے لوحِ قلب پر منقّش ہو جاتی ہیں اور ان کے رگ وریشہ میں سرایت کرگئی ہوتی ہیں اور بوجہ استیلائے محبت وتعشقِ الٰہی وشہودو عظمت وجلال ذات کبریائی ان کے قلب ِسلیم کا یہی ورد ہو جاتا ہے۔؎ نہ از چینم حکایت کن نہ از روم کہ دارم دلستانے اندرین بوم چو روئے خوب او آید بیادم فراموشم شود موجود و معدوم آپ اپنے سارے جسم وجان روح ورواں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ہو جاویں۔پھر خدا تعالیٰ خود بخود تم سب کا حافظ وناصر معین وکار ساز ہو جاوے گا۔چاہیے کہ انسان کے تمام قویٰ آنکھ، کان، دل، دماغ، دست وپا جملہ متمسک باللہ ہو جاویں۔ان میں کسی قسم کا اختلاف نہ رہے اسی میں تمام کامیابیاں ونصرتیں ہیں یہی اصل مراقبہ ہے اسی سے حرارت قلبی وروحانیت پیدا ہوتی ہے اور اسی کی بدولت ایمانِ کا مل نصیب ہوتا ہے۔سب سے اوّل تو انسان کو اپنا مرض معلوم کرنا چاہیے جب تک مرض کی تشخیص نہ ہو علاج کیا ہو سکتا ہے ؟اللہ تعالیٰ کے ساتھ اطمینان نہ پانا یہی خطرناک مرض ہے یہ وہ حالت ہے جبکہ انسان نفسِ امّارہ کے زیرِحکم چل رہا ہوتا ہے۔اس وقت صرف محرکات بدی یعنی شیطان ہی کی اس پر حکومت ہوتی ہے اور انہیں اللہ تعالیٰ سے دور افتادہ ہلاک ہونے والی ناپاک روحوں کا اس پر اثر ہوتا ہے۔اس سے ذرا اُوپر انسان ترقی کرتا ہے تو اس وقت اس کا اپنے نفس کے ساتھ ایک جہاد شروع ہو جاتا ہے اس کی ایسی حالت کا نام لوامہ ہے اس وقت اگرچہ محرکات بدی سے اس کو پوری مخلصی نہیں ہوتی مگر محرکات ِنیکی یعنی ملائکہ کی پاک تحریکات کی تاثیریں بھی اس پر موثر ہونے لگ جاتی ہیں ان نیک تحریکات کی قوت وطاقت سے نفسِ امّارہ سے اس کی ایک قسم کی کُشتی ڈٹ جاتی ہے اور ان کی مدد سے تحریکاتِ بدی پرغلبہ پاتے پاتے زینہ ترقی پر چڑھنا شروع ہو جاتا ہے اور اگر فضلِ ایزدی شامل حال ہو تو بتدریج ترقی کرتا جاتا ہے۔آخر کار اس نفس لوّامہ کی کُشتی جیت لینے پر تمام تحریکات ِبدی کو