ملفوظات (جلد 5) — Page 319
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۱۹ جلد پنجم دشواریوں و مصیبتوں کا سامنا ہو۔ تاہم وہ ان کی کچھ پروا نہیں کرتے بلکہ وفور جذ بہ عشق محبوب حقیقی سے آگے ہی قدم مارتے ہیں اور اپنا تمام دھن من تن اسی راہ میں صرف کر دینے کو عین اپنی سعادت و خوش قسمتی سمجھتے ہیں اور یہی ان کا مقصود بالذات ہوتا ہے کہ دنیوی علائق کے جالوں کو توڑ کر اور اس کے پھندوں سے مخلصی پا کر اس جمیع محامد کی جامع ذات ستودہ صفات کے آستانہ سراپا برکت خیز پر پہنچنے کا شرف حاصل کریں۔ نتابد از ره جانان خود سر اخلاص اگر چه سیل مصیبت بزور با باشد براہ یار عزیز از بلا نه پرهیزد اگرچه در ره آن یار اژدها باشد بدولت دو جہاں سر فرو نمے آرند بعشق یار دل زار شان دو تا باشد لاتا ہوں کہ در حقیقت مول استقامت یہی ہے۔ کلام مجید میں ہے الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا ( حم السجدۃ: ۳۱) یعنی جو اللہ تعالیٰ کی طرف آجاتے ہیں وہ صرف اللہ تعالیٰ کے ہی راستہ پر نہیں آتے بلکہ اس صراط مستقیم پر استقامت بھی دکھلاتے ہیں۔ نتیجہ کیا ؟ ہوتا ہے کہ تطہیر و تنویر قلوب کی منزلیں طے کر لیتے ہیں اور بعد انشراح صدر کے جو اللہ تعالی کے فضل سے ان کو حاصل ہوتا ہے اللہ تعالیٰ ان کو اپنی خاص نعمتوں سے متمتع فرماتا ہے۔ محبت و ذوقِ الہی ان کی غذا ہو جاتی ہے۔ مکالمہ الہی ، وحی الہام و کشف وغیرہ انعامات الہی سے مشرف و بہرہ مند کئے جاتے ہیں۔ درگاہ رب العزت سے طمانیت و سکینت ان پر اُترتی ہے۔ محزن و مایوسی ان کے نزدیک تک نہیں پھٹکتی ۔ ہر وقت جذبہ محبت و ولولہ عشق الہی میں سرشار رہتے ہیں گو یا لا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (البقرة: ۱۱۳) کے پورے مصداق ہو جاتے ہیں ۔ مادر ما قال کلید این همه دولت محبت است و وفا ه خوشا کسیکه چنین دولتش عطا باشد غرض استقامت بڑی چیز ہے۔ استقامت ہی کی بدولت تمام گروہ انبیاء ہمیشہ مظفر و منصور و با مراد ہوتا چلا آیا ہے۔ ذات تقدس مآب باری تعالیٰ کے ساتھ ایک خالص ذاتی تعلق و گہرا پیوند قائم کرنا چاہیے جب یہ تعلق پورا قائم ہو جاوے پھر ہر ایک قسم کے خوف وخطر سے انسان محفوظ و مطمئن ہو جاتا