ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 318 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 318

غرض کہ پوری مستعدی و ہمت سے استقلال دکھلاویں۔یہ آثار پژمُردگی ہمیں بر محل معلوم نہیں ہوتے۔یہاں کا رہنا تو ایک قسم کا آستانہ ایزدی پر رہنا ہے۔اس حوض کوثر سے وہ آب حیات ملتا ہے کہ جس کے پینے سے حیاتِ جاودانی نصیب ہوتی ہے جس پر ابدالآباد تک موت ہرگز نہیں آسکتی۔اچھی طرح کمر بستہ ہوکر پورے استقلال سے اس صراط مستقیم کے راہ رو بنیں اور ہر قسم کی دنیوی روکاوٹوں اور نفسانی خواہشات کی ذرّہ پروا نہ کرکے اللہ تعالیٰ کے صادق مامور کی پوری معیت کریں تاکہ حکم كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ(التوبۃ:۱۱۹) کی فرمانبرداری کا سنہری تمغہ آپ کو حاصل ہو۔یاد رکھیں کہ راستی وصداقت کے فرزندہمیشہ جاہ وجلال کے تاجِ زرّیں کے وارث ہو اکرتے ہیں۔راستبازی کے حاسد دشمنوں کا جو انجام ہوا کرتا ہے وہ بھی پوشیدہ نہیں۔؎ بسوزدآنکہ نہ سوزد بصدق در رہ یار بمیرد آنکہ گریزندہ از فنا باشد معلوم نہیں کہ آپ کو جہلم سے کیوں اُنس ہے حالانکہ اس کی میم نسبتی کو حذف کرنے کے بعد تو جہل ہی جہل رہ جاتا ہے۔بھلا فہم وذکا کو جہل سے کیا نسبت؟ مولوی صاحب نے عرض کی کہ حضور! واقعی یہ تو سچ ہے کہ جہلم بمعنی جہل مَن ہی ہے آخری میم نسبتی ہے۔فرمایا کہ جب یہ حال ہے تو ایسے جہل کو ترک کرنا چاہیے۔وہاں کی رہائش کو یہاں کی رہائش پر کسی طرح بھی ترجیح نہیں ہوسکتی۔پھر اس حالت میں مامور من اللہ کی صحبت نہایت ضروری بلکہ مغتنمات سے ہے۔خوش قسمت وہ جن کو یہ نعمت ِغیر متر قبہ نصیب ہو۔جو شخص سب کچھ چھوڑ کر اس جگہ آکر آباد نہیں ہوتا یا کم از کم ایسی تمنّا دل میں نہیں رکھتا اس کی حالت کی نسبت مجھے بڑا اندیشہ ہے کہ مبادا وہ پاک کرنے والے تعلقات میں ناقص نہ رہے۔اپنے گھروں،وطنوں اور املاک کو چھوڑ کر میری ہمسائیگی کے لیے قادیان میں بود وباش کرنا ’’اصحاب الصفہ‘‘ کا مصداق بننا ہے۔اور یہ تو ایک ابتدائی مرحلوں میں سے ہے ورنہ مَردانِ خدا کو تو اگر اس سے بھی صد ہا درجہ بڑھ کر