ملفوظات (جلد 5) — Page 318
ملفوظات حضرت مسیح موعود بجز اسیری عشق رخش رہائی نیست ۳۱۸ جلد پنجم بدرد او ہمہ امراض را دوا باشد غرض کہ پوری مستعدی و ہمت سے استقلال دکھلا دیں ۔ یہ آثار پژمردگی ہمیں برمحل معلوم نہیں ہوتے۔ یہاں کا رہنا تو ایک قسم کا آستانہ ایزدی پر رہنا ہے۔ اس حوض کوثر سے وہ آب حیات ملتا ہے کہ جس کے پینے سے حیات جاودانی نصیب ہوتی ہے جس پر ابدالآباد تک موت ہرگز نہیں آسکتی ۔ اچھی طرح کمر بستہ ہو کر پورے استقلال سے اس صراط مستقیم کے راہ رو بنیں اور ہر قسم کی دنیوی روکاوٹوں اور اور نفسانی خواہشات کی ذرہ پروانہ پروانہ کر کر کےاللہ کے اللہ تعالی تعالیٰ کے کے صادق مامور مامور کی پوری معیت کے کریں تا کہ حکم كُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ (التوبة : ۱۱۹) کی فرمانبرداری کا سنہری تمغہ آپ کو حاصل ہو۔ یاد رکھیں کہ راستی و صداقت کے فرزند ہمیشہ جاہ وجلال کے تاج زریں کے وارث ہوا کرتے ہیں۔ راستبازی کے حاسد دشمنوں کا جو انجام ہوا کرتا ہے وہ بھی پوشیدہ نہیں ۔ ه بسوزد آنکه نه سوزد بصدق در ره یار بمیرد آنکه گریزنده از فنا باشد معلوم نہیں کہ آپ کو جہلم سے کیوں اُنس ہے حالانکہ اس کی میم نسبتی کو حذف کرنے کے بعد تو جہل ہی جہل رہ جاتا ہے۔ بھلا فہم و ذکا کو جہل سے کیا نسبت؟ مولوی صاحب نے عرض کی کہ حضور ! واقعی یہ تو سچ ہے کہ جہلم بمعنی جہل من ہی ہے آخری میم نسبتی ہے۔ فرمایا کہ جب یہ حال ہے تو ایسے جہل کو ترک کرنا چاہیے۔ وہاں کی رہائش کو یہاں کی رہائش پر ا کسی طرح بھی ترجیح نہیں ہوسکتی۔ پھر اس حالت میں مامور من اللہ کی صحبت نہایت ضروری بلکہ مغتنمات سے ہے۔ خوش قسمت وہ جن کو یہ نعمت غیر مترقبہ نصیب ہو۔ جو شخص سب کچھ چھوڑ کر اس جگہ آکر آباد نہیں ہوتا یا کم از کم ایسی تمنا دل میں نہیں رکھتا اس کی حالت کی نسبت مجھے بڑا اندیشہ ہے کہ مبادا وہ پاک کرنے والے تعلقات میں ناقص نہ رہے۔ اپنے گھروں، وطنوں اور املاک کو چھوڑ کر میری ہمسائیگی کے لیے قادیان میں بود و باش کرنا ” اصحاب الصفہ“ کا مصداق بننا ہے۔ اور یہ تو ایک ابتدائی مرحلوں میں سے ہے ورنہ مردانِ خدا کو تو اگر اس سے بھی صد ہا درجہ بڑھ کر