ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 314 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 314

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۱۴ جلد پنجم جیسے خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَ ابْتَائِي ذِي الْقُرْبى (النحل: ٩١) خدا کے ساتھ عدل یہ ہے کہ اس کی نعمتوں کو یا دکر کے اس کی فرماں برداری کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ اور اسے پہچانو اور اس پر ترقی کرنا چاہو تو درجہ احسان کا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کی ذات پر ایسا یقین کر لینا کہ گویا اس کو دیکھ رہا ہے اور جن لوگوں نے تم سے سلوک نہیں کیا ان سے سلوک کرنا۔ اور اگر اس سے بڑھ کر سلوک چاہو تو ایک اور درجہ نیکی کا یہ ہے کہ خدا کی محبت طبعی محبت سے کرو۔ نہ بہشت کی طمع نہ دوزخ کا خوف ہو۔ بلکہ اگر فرض کیا جاوے کہ نہ بہشت ہے نہ دوزخ ہے تب بھی جوش محبت اور اطاعت میں فرق نہ آوے۔ ایسی محبت جب خدا سے ہو تو اس میں ایک کشش پیدا ہو جاتی ہے اور کوئی فتور واقع نہیں ہوتا اور مخلوق خدا سے ایسے پیش آؤ کہ گویا تم ان کے حقیقی رشتہ دار ہو ۔ یہ درجہ سب سے بڑھ کر ہے کیونکہ احسان میں ایک مادہ خود نمائی کا ہوتا ہے اور اگر کوئی احسان فراموشی کرتا ہو تو محسن جھٹ کہہ اٹھتا ہے کہ میں نے تیرے ساتھ فلاں احسان کئے لیکن طبعی محبت جو کہ ماں کو بچے کے ساتھ ہوتی ہے اس میں کوئی خود نمائی نہیں ہوتی بلکہ اگر ایک بادشاہ ماں کو یہ حکم دیوے کہ تو اس بچہ کو اگر مار بھی ڈالے تو تجھ سے کوئی باز پرس نہ ہوگی تو وہ کبھی یہ بات سننی گوارا نہ کرے گی اور اس بادشاہ کو گالی دے گی۔ حالانکہ اسے علم بھی ہو کہ اس کے جوان ہونے تک میں نے مر جانا ہے مگر پھر بھی محبت ذاتی کی وجہ سے وہ بچہ کی پرورش کو ترک نہ کرے گی ۔ اکثر دفعہ ماں باپ بوڑھے ہوتے ہیں اور ان کو اولاد ہوتی ہے تو ان کی کوئی امید بظاہر اولاد سے فائدہ اٹھانے کی نہیں ہوتی لیکن باوجود اس کے پھر بھی وہ اس سے محبت اور پرورش کرتے ہیں۔ یہ ایک طبعی امر ہوتا ہے جو محبت اس درجہ تک پہنچ جاوے اسی کا اشاره ايتَائِي ذِي الْقُربى (النحل: (۹۱) میں کیا گیا ہے کہ اس قسم کی محبت خدا کے ساتھ ہونی چاہیے۔ نہ مراتب کی خواہش نہ ذلت کا ڈر۔ جیسے آیت لا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاء وَ لَا شُكُورًا ( الدهر : ۱۰) سے ظاہر ہے غرضیکہ یہ باتیں ہیں جن کو یا د رکھنا چاہیے۔ اے ل البدر جلد ۲ نمبر ۴۳ مورخه ۱۶ نومبر ۱۹۰۳ ء صفحه ۳۳۳ تا ۳۳۵