ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 309 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 309

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۰۹ جلد پنجم جب لوگوں کو تبلیغ کی جاتی ہے تو کہتے ہیں کہ کیا ہم مسلمان نہیں ہیں ۔ کیا ہم ایمان کی حقیقت نماز نہیں پڑھتے۔ کیا ہم روز نہیں رکھتے۔ ان لوگوں کو حقیقت ایمان کا علم نہیں ہے۔ اگر علم ہوتا تو وہ ایسی باتیں نہ کرتے۔ اسلام کا مغز کیا ہے اس سے بالکل بے خبر ہیں۔ حالانکہ خدا کی یہ عادت قدیم سے چلی آئی ہے کہ جب مغز اسلام چلا جاتا ہے تو اس کے از سر نو قائم کرنے کے واسطے ایک کو مامور کر کے بھیج دیتا ہے تا کہ کھائے ہوئے اور مرے دل پھر زندہ کئے جاویں مگر ان لوگوں کی غفلت اس قدر ہے کہ دلوں کی مُردگی محسوس نہیں کرتے خدا تعالیٰ فرماتا ہے بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (البقرة: ١١٣) یعنی مسلمان وہ ہے جو خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے تمام وجود کو سونپ دیوے اور نیک کاموں پر خدا تعالیٰ کے لیے قائم ہو جاوے گویا اس کے قومی خدا تعالیٰ کے لیے مر جاتے ہیں گویا وہ اس کی راہ میں ذبح ہو جاتا ہے جیسے ابراہیم علیہ السلام نے اس اسلام کا نمونہ دکھلایا کہ ارادہ الہی کی بجا آوری میں اپنے نفس کو ذرہ بھی دخل نہ دیا اور ایک ذرا سے اشارہ سے بیٹے کو ذبح کرنا شروع کر دیا۔ مگر یہ لوگ اسلام کی اس حقیقت سے بے خبر ہیں ۔ جو کام ہیں ان میں ملونی ہوتی ہے۔ اگر کوئی ان میں سے رسالہ جاری کرتا ہے تو اس سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ روپیہ کماوے بال بچے کا گزارہ ہو۔ ابھی حال میں ایک شخص کا خط آیا ہے لکھتا ہے کہ میں نے عبدالغفور کے مرتد ہونے پر اس کی کتاب ترک اسلام کے جواب میں ایک رسالہ لکھنا شروع کیا ہے۔ امداد فرماویں۔ ان لوگوں کو اس بات کا علم نہیں ہے کہ اسلام کیا شے ہے۔ خدا کی طرف سے کوئی نفخ روح اس میں نہیں لیکن رسالہ لکھنے کو طیار ہے۔ ایسے شخص کو چاہیے تھا کہ اول تزکیہ نفس کے لئے خود یہاں آتا اور پوچھتا اور اول خود اپنے اسلام کی خبر لیتا لیکن عقل ، دیانت اور سمجھ ہوتی تو یہ کرتا۔ مقصود تو اپنی معاش ہے اور رسالہ کو ایک بہانہ بنایا ہے۔ ہر ایک جگہ یہی بد بو آتی ہے کہ جو کام ہے خدا کے لیے نہیں بیوی بچوں کے لیے ہے۔ جو خدا کا ہو جاتا ہے تو خدا اس کا ہو جاتا ہے اور اس کی تائید میں اور نصرت کا ہاتھ خود اس کے کاموں سے معلوم ہو جاتی ہیں اور آخر کار انسان مشاہدہ کرتا ہے کہ ایک غیب کا ہاتھ ہے جو اسے ہر میدان