ملفوظات (جلد 5) — Page 305
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۰ اکتوبر ۱۹۰۳ء ۳۰۵ جلد پنجم طاعون کا نشان مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد حضرت اقدس حسب دستور شد نشین پر جلوہ افروز ہوئے اور طاعون کا ذکر ہوا۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے اگر چہ جماعت کو وعدہ دیا ہے کہ وہ اسے اس بلا سے محفوظ رکھے گا۔ مگر اس میں بھی ایک شرط لگی ہوئی ہے کہ لَمْ يَلْبِسُوا إِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ (الانعام : ۸۳) کہ جو لوگ اپنے ایمانوں کو ظلم سے نہ ملاویں گے وہ امن میں رہیں گے پھر دار کی نسبت وعدہ دیا تو اس میں بھی شرط رکھ دی ہے کہ إِلَّا الَّذِينَ عَلَوْا بِالْإِسْتِكْبَارِ اس میں علوا کے لفظ سے مُراد یہ ہے کہ جس قسم کی اطاعت انکساری کے ساتھ چاہیے وہ بجا نہ لاوے۔ جب تک انسان حُسن نیتی جس کو حقیقی سجدہ کہتے ہیں بجانہ لاوے تب تک وہ دار میں نہیں ہے اور مومن ہونے کا دعویٰ بے فائدہ ہے ۔ لَمْ يَلْبِسُوا إِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ میں شرک سے یہ مراد نہیں ہے کہ ہندوؤں کی طرح پتھروں کے بتوں یا اور مخلوقات کو سجدہ کیا بلکہ جو شخص ماسوی اللہ کی طرف مائل ہے اور اس پر بھروسہ کرتا ہے حتی کہ دل میں جو منصوبے اور چالا کیاں رکھتا ہے ان پر بھروسہ کرتا ہے تو وہ بھی شرک ہے۔ حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ کا حال بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے ان کو خواب میں دیکھا اور پوچھا کہ بتلاؤ اللہ تعالیٰ سے معاملہ کیسے ہوا تو انہوں نے بتلایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا عمل لایا ہے۔ میں نے کہا اور عمل تو کوئی نہیں ہے صرف یہ ہے کہ میں نے عمر بھر شرک نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا تو نے یوم اللبن کے دن بھی شرک نہ کیا تھا کہ دُودھ پی کر کہا کہ اس سے پیٹ میں درد ہوئی ہے گو یا دودھ کو خدا سمجھ لیا تھا اور خدا پر سے جو حقیقی فاعل ہے نظر اُٹھ گئی تھی ۔ نفسانی جذبات ہزاروں قسم کے ہیں جو کہ انسان کو لگے ہوئے ہیں ان کو دیکھا جاوے تو سر سے لے کر پاؤں تک ظلم ہی ظلم ہے۔ سر تکبر اور گھمنڈ کی جگہ ہے آنکھ بُرے خیالات کا مقام ہے۔ غضب کی نظر سے بھی انسان اسی سے دوسرے کو دیکھتا ہے۔ کان بے جا باتیں سنتے ہیں زبان بری باتیں بولتی ،