ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 301 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 301

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۰۱ جلد پنجم پھانسی ملتا اس نے دوہائی دی ہوگی اور چلایا ہوگا کہ میرے بیوی بچوں سے پوچھو میرا فلاں نام ہے اور میں مسیح نہیں ہوں۔ پھر اکثر موجودہ آدمیوں کی تعداد میں سے بھی ایک آدمی کم ہو گیا ہو گا جس سے معاً پتا لگ سکتا ہے کہ یہ شخص مسیح نہیں غرضیکہ ہر طرح سے یہ خیال باطل ہے اور شُبِّهَ لَهُمُ (النساء : ۱۵۸) سے مراد مشبہ بالمصلوب ہے۔ محمد عبد الحق صا۔ صاحب ۔ یہ خیال یورپ میں ایک انقلاب عظیم پیدا کرے گا کیونکہ وہاں لوگوں کو دھوکا دیا گیا ہے اور کچھ کا کچھ سمجھایا گیا ہے۔ حضرت مسیح موعود ۔ عام لوگ جو بیان کرتے ہیں یہ منشا قرآن کریم کا ہرگز نہیں ہے اور اس سے لوگوں کو دھوکا لگا ہے۔ محمد عبد الحق صاحب۔ اسلام کے عقائد ہم تک عیسائیوں کے ذریعے پہنچے ہیں اور اسلام کا اصل چہرہ دیکھنے کے واسطے میں باہر نکلا ہوں ۔ حضرت مسیح موعود ۔ یہ خدا کا بڑا فضل ہے اور خوش قسمتی آپ کی ہے کہ آپ ادھر آنکلے یہ بات واقعی سچ ہے کہ جو مسلمان ہیں یہ قرآن شریف کو بالکل نہیں سمجھتے لیکن اب خدا کا ارادہ ہے کہ صحیح معنے قرآن کے ظاہر کرے خدا نے اسی لیے مجھے مامور کیا اور میں اس کے الہام اور وحی سے قرآن شریف کو سمجھتا ہوں ۔ قرآن شریف کی ایسی تعلیم ہے کہ اس پر کوئی اعتراض نہیں آسکتا اور معقولات سے ایسی پر ہے کہ ایک فلاسفر کو بھی اعتراض کا موقع نہیں ملتا مگر ان مسلمانوں نے قرآن کریم کو چھوڑ دیا ہے اور اپنی طرف سے ایسی ایسی باتیں بنا کر قرآن شریف کی طرف منسوب کرتے ہیں جس سے قدم قدم پر اعتراض وارد ہوتا ہے اور ایسے دعاوی اپنی طرف سے کرتے ہیں جن کا ذکر قرآن شریف میں نہیں ہے اور وہ سراسر اس کے خلاف ہیں مثلاً اب یہی واقعہ صلیب کا دیکھو کہ اس میں کس قدر افتر اسے کام لیا گیا ہے اور قرآن کریم کی مخالفت کی گئی ہے اور یہ بات عقل کے بھی خلاف ہے اور قرآن کے بھی برخلاف ہے۔ اس کے بعد حضرت اقدس نے لفظ توفی کی نسبت سمجھایا کہ اس میں اہل اسلام نے کیا ٹھو کر کھائی