ملفوظات (جلد 5) — Page 300
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۰۰ له جلد پنجم مراد یہود نصاری ہیں جب تک کہ کھول کر نہ بتلایا جاوے اور پھر یہ دعا مسلمانوں کو کیوں سکھلائی گئی ۔ اس کا یہی منشا تھا کہ جیسے یہودیوں نے حضرت مسیح کا انکار کر کے خدا کا غضب کما یا ایسے ہی آخری زمانہ میں اس امت نے بھی مسیح موعود کا انکار کر کے خدا کا غضب کمانا تھا اسی لیے اوّل ہی ان کو بطور پیشگوئی کے اطلاع دی گئی کہ سعید روحیں اس وقت غضب سے بچ سکیں ۔ محمد عبد الحق صاحب - مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلكِنْ شُبَّهَ لَهُمُ (النساء: ۱۵۸) کی نسبت بیان کیا کہ عوام اہل اسلام اور بعض تفاسیر میں اس کی نسبت لکھا ہوا ہوتا ہے کہ ایک اور آدمی مسیح کی شکل کا بن گیا اسے پھانسی دی گئی اور مسیح آسمان پر چلا گیا۔۔۔۔۔ حضرت مسیح موعود ۔ اس کا سمجھنا بہت آسان ہے عام محاورہ زبان میں اگر یہ کہا جاوے کہ فلاں مصلوب ہوا یا پھانسی دیا گیا تو اس کے معنے یہی ہوتے ہیں کہ صلیب پر اس کی جان نکل گئی۔ اگر کوئی مجرم پھانسی پر لٹکا یا جاوے مگر اس کی جان نہ نکلے اور زندہ اتار لیا جاوے تو کیا اس کی نسبت پھانسی دیا گیا یا مصلوب کا لفظ بولا جاوے گا؟ ہر گز نہیں بلکہ اس کی نسبت یہ الفاظ بولنے ہی جرم ہوں گے مصلوب اسے کہتے ہیں کہ جس کی جان صلیب پر نکل جاوے اور جس کی جان نہ نکلے اسے مصلوب نہیں کہتے خواہ وہ صلیب پر چڑھا کر اتار لیا گیا ہو یہودی زندہ موجود ہیں ان سے دریافت کر لو آیا مصلوب کے یہ معنے ہیں جو ہم کرتے ہیں یا وہ جو ہمارے مخالف کرتے ہیں پھر محاورہ زبان کو بھی یکھنا چاہیے۔ مَا صَلَبُوهُ کے ساتھ ہی مَا قَتَلُو رکھ دیا کہ بات سمجھ میں آجاوے کہ صلیب سے مراد جان لینی تھی جو کہ نہیں لی گئی اور صلیبی قتل وقوع میں نہیں آیا ۔ شُبّهَ لَهُمْ (النساء: ۱۵۸) کے معنے ہیں مشبہ بالمصلوب ہو گیا۔ اس میں ان لوگوں کا یہ قول کہ کوئی اور آدمی مسیح کی شکل بن گیا تھا بالکل باطل ہے۔ عقل بھی اسے قبول نہیں کرتی اور نہ کوئی روایت اس کے بارے میں صحیح موجود ہے۔ بھلا سوچ کر دیکھو کہ اگر کوئی اور آدمی مسیح کی شکل بن گیا تھا تو وہ دو حال سے خالی نہ ہوگا یا تو مسیح کا دوست ہوگا یا اس کا دشمن ۔ اگر دوست ہوگا تو یہ اعتراض ہے کہ جس لعنت سے خدا نے مسیح کو بچانا چاہا وہ اس کے دوست کو وہ اس کے کو کیوں دی؟ اس سے خدا ظالم ٹھہرتا ہے اور اگر وہ دشمن تھا تو اسے کیا ضرورت تھی ۔ کہ وہ مسیح کی جگہ