ملفوظات (جلد 5) — Page 299
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۹۹ جلد پنجم رسم و عادت کے ہم پابند نہیں ہیں۔ اس حد تک ہر ایک عادت کی رعایت رکھتے ہیں کہ جس کے ترک سے کسی تکلیف یا معصیت کا اندیشہ ہو باقی کھانے پینے اور نشست و برخاست میں ہم سادہ زندگی کو پسند کرتے ہیں۔ محمد عبد الحق صاحب۔ جب سے میں اسلام میں داخل ہوا ہوں اور روحانیت سے حصہ لیا ہے میں سادگی سے محبت کرتا ہوں اسی لیے اگر یہاں رہوں تو مجھے تکلیف نہ ہو گی دنیا میں میں نے جس قدر سفر کیا ہے اس سے مجھے تجربہ ہوا ہے کہ سادہ زندگی والا اور گوشہ نشین انسان بہت آرام سے زندگی بسر کرتا ہے۔ ۲۳ را کتوبر ۱۹۰۳ء محمد عبد الحق صاحب کی طرف سے میاں معراج الدین صاحب عمر نے بیان کیا کہ آج یہ صاحب حضرت حکیم نورالدین صاحب سے قرآن کریم کے کچھ معانی سنتے رہے ہیں اور ان کو سن کر ان کی یہ رائے قرار پائی ہے کہ اس قسم کے ترجمہ کی بڑی ضرورت ہے اکثر لوگوں نے دوسرے ترجموں سے دھوکا کھایا ہے اور ان کی خواہش ہے کہ حضور کی طرف سے ایک ترجمہ شائع ہو۔ حضرت مسیح موعود ۔ میرا خود بھی یہ ارادہ ہے کہ ایک ترجمہ قرآن شریف کا ہمارے سلسلہ کی طرف سے نکلے۔ محمد عبد الحق صاحب۔ اس کی ضرورت کو یورپین لوگوں میں مجھ سے زیادہ کوئی اور محسوس نہیں کر سکتا ۔ سب آدمی میری طرح متلاشی حق ہیں اور حق کو بہت جدوجہد سے دریافت کرنے کے بعد پھر ان غلط ترجموں کے ذریعہ سے ضلالت کی طرف جانا پڑتا ہے۔ حضرت مسیح موعود صرف قرآن کا ترجمہ اصل میں مفید نہیں جب تک اس کے ساتھ تفسیر نہ ہو مثلاً غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ (الفاتحة : ٧) کی نسبت کسی کو کیا سمجھ آ سکتا ہے کہ اس سے ل البدر جلد ۲ نمبر ۴۱، ۴۲ مورخه ۲۹ اکتو بر و ۸ رنومبر ۱۹۰۳ء صفحه ۳۲۴، ۳۲۵