ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 298 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 298

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۹۸ جلد پنجم میں ملتی ہے نا امیدی اور مایوسی کی سخت دشوار گزار راہ میں داخل ہونا پڑتا ہے جس قدر امیدیں عزت اور آبرو اور جاہ اور منزلت کے حصول کی لوگوں سے اس نے باندھی ہوتی ہے ان سب پر پانی پھر جاتا ہے۔ جیسا کہ دنیا کی یہ قدیمی سنت چلی آئی ہے ان تمام نا امیدیوں اور مایوسیوں کے لیے طیار رہنا اور ان کا برداشت کرنا ضروری ہے۔ انسان اگر شیر دل ہو کر ان کا مقابلہ کرے تو ٹھہر سکتا ہے ورنہ دیکھا گیا ہے کہ لوگ شوق سے اس میدان میں داخل ہوتے ہیں مگر جب یہ تمام بوجھ ان پر پڑتے ہیں تو آخر کار دنیا کی طرف جھک جاتے ہیں۔ ان کا قلب اس نقصان کو جو دنیا اور اس کے اہل سے پہنچتا ہے برداشت نہیں کر سکتا اس لیے ان کا انجام ان کے اول سے بھی بدتر ہوتا ہے۔ تو یہ امر ضروری ہے کہ دنیا کا لعن طعن برداشت کر کے اور ہر طرح سے نا امیدیوں کے لئے طیار ہو کر اگر داخل سلسلہ ہو تو حق کو جلد پاوے گا اور جو کچھ اسے ابتدا میں چھوڑنا پڑے گا وہ سب آخر کار اللہ تعالیٰ اسے د اسے دیدے گا ایک تخم جس کے لیے مقدر ہے کہ وہ پھل لاوے اور بڑا درخت بنے ضرور ہے کہ اول چند دن مٹی کے نیچے دبار ہے تب وہ درخت بن سکے گا اس لیے صبر ضروری ہے تا کہ وہ اپنے آپ کو گرادے پھر قدرت الہی اسے اٹھاوے جس سے اس کا نشو و نما ہو۔ مسٹروب پہلی دفعہ اسی طرح ہماری طرف جھلکے مگر پیچھے وہ قائم نہ رہ سکے اب وہ تمام باتوں کا اعتراف کرتے ہیں ۔ محمد عبدالحق صاحب ۔ بذریعہ خط و کتابت مسٹروب سے میری ملاقات ہے اور میں ان کو اس وقت سے جانتا ہوں جبکہ وہ ہندوستان میں آئے اور ان کے حالات سے خوب واقف ہوں اور جو شرائط اپنے سلسلہ میں داخل ہونے کے آپ نے بیان کئے ہیں میں انہی کو اسلام کی شرائط خیال کرتا ہوں ۔ جو مسلمان ہو گا اس کے لیے ان تمام باتوں کا نشانہ ہونا ضروری ہے آپ کے ساتھ ملنے سے جو نقصانات مجھ کو ہو سکتے ہیں اکثر مسلمان لوگوں نے اوّل ہی سے مجھے ان کی اطلاع دی ہے اور باوجود اس اطلاع اور علم کے میں یہاں آیا ہوں ۔ حضرت اقدس ۔ ہمارے اصولوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہم ایک سادہ زندگی بسر کرتے ہیں وہ تمام تکلفات جو کہ آج کل یورپ نے لوازمہ زندگی بنارکھے ہیں ان سے ہماری مجلس پاک ہے