ملفوظات (جلد 5) — Page 298
میں ملتی ہے نا امیدی اور ما یو سی کی سخت دشوار گذارراہ میں داخل ہونا پڑتا ہے جس قدر امیدیں عزّت اور آبرو اور جا ہ اور منزلت کے حصول کی لوگوں سے اس نے باندھی ہوتی ہے ان سب پر پانی پھر جاتا ہے۔جیسا کہ دنیا کی یہ قدیمی سنّت چلی آئی ہے ان تمام ناامیدیوں اور مایوسیوں کے لیے طیار رہنا اور ان کا برداشت کرنا ضروری ہے۔انسان اگر شیر دل ہو کر ان کا مقابلہ کرے تو ٹھہر سکتا ہے ورنہ دیکھاگیا ہے کہ لوگ شوق سے اس میدا ن میں داخل ہوتے ہیں مگر جب یہ تمام بوجھ ان پر پڑتے ہیں تو آخر کار دنیا کی طرف جھک جاتے ہیں۔ان کا قلب اس نقصان کو جو دنیا اور اس کے اہل سے پہنچتا ہے برداشت نہیں کرسکتا اس لیے ان کا انجام ان کے اوّل سے بھی بدتر ہوتا ہے۔تو یہ اَمر ضروری ہے کہ دنیا کا لعن طعن برداشت کرکے اور ہر طرح سے ناامیدیوں کے لئے طیار ہو کر اگر داخل سلسلہ ہو تو حق کو جلد پا وے گا اور جو کچھ اسے ابتدا میں چھوڑ نا پڑے گا وہ سب آخر کار اللہ تعالیٰ اسے دید ے گا ایک تخم جس کے لیے مقدر ہے کہ وہ پھل لا وے اور بڑا درخت بنے ضرور ہے کہ اوّل چند دن مٹی کے نیچے دبا رہے تب وہ درخت بن سکے گا اس لیے صبر ضروری ہے تاکہ وہ اپنے آپ کو گرا دے پھر قدرت الٰہی اسے اٹھا وے جس سے اس کا نشوونما ہو۔مسڑ وب پہلی دفعہ اسی طرح ہماری طرف جھکے مگر پیچھے وہ قائم نہ رہ سکے اب وہ تمام باتوں کا اعتراف کرتے ہیں۔محمد عبدالحق صاحب۔بذریعہ خط وکتا بت مسڑ وب سے میری ملاقات ہے اور میں ان کو اس وقت سے جانتاہوں جبکہ وہ ہندوستان میں آئے اور ان کے حالات سے خوب واقف ہوں اور جو شرائط اپنے سلسلہ میں داخل ہونے کے آپ نے بیان کئے ہیں میں انہی کو اسلام کی شرائط خیال کرتا ہوں۔جو مسلمان ہوگا اس کے لیے ان تمام باتوں کا نشا نہ ہونا ضروری ہے آپ کے ساتھ ملنے سے جو نقصانات مجھ کو ہوسکتے ہیں اکثر مسلمان لوگوں نے اوّل ہی سے مجھے ان کی اطلا ع دی ہے اور باوجود اس اطلاع اور علم کے میں یہاں آیا ہوں۔حضرت اقدسؑ۔ہمارے اصولوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہم ایک سادہ زندگی بسر کرتے ہیں وہ تمام تکلّفات جو کہ آج کل یو رپ نے لوازمہ زندگی بنا رکھے ہیں ان سے ہماری مجلس پاک ہے