ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 297 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 297

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۹۷ جلد پنجم کرے گا اور کمال کو پہنچے گا ویسے ہی میں بھی ترقی اور کمال کو پہنچوں گا (بشرطیکہ قادیان میں مستقل قیام رہا) میرے وہم اور گمان میں بھی یہ بات نہ تھی کہ میں آج ہی ایسے موقع پر یہاں وارد ہوں گا جبکہ نئے چاند کا ظہور ہوگا۔ کلکتہ میں جو خط بعض لوگوں نے مجھے دیئے اگر میں ان پر عملدرآمد کرتا تو کہیں کا کہیں ہوتا مگر یہاں آکر مجھے معلوم ہوا کہ جن لوگوں کی تلاش میں میں ہوں وہ لوگ یہی ہیں رنگون میں میں نے آپ کے حالات سنے اور چند ایک تصانیف بھی دیکھی تھیں مگر مجھے آپ کا پتا معلوم نہ ہوا اور نہ یہ امید تھی کہ اس قدر جلد میں یہاں پہنچ جاؤں گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۔ ان باتوں سے فراست تو گواہی دیتی ہے کہ آپ ہماری شرائط کے موافق ہوں گے اور خدا چاہے تو اثر بھی قبول کر سکیں گے لیکن یاد رکھو کہ سنت اللہ یوں ہے کہ دو باتیں اگر ہوں تو انسان حصول فیض میں کامیاب ہوتا ہے ایک یہ کہ وقت خرچ کر کے صحبت میں رہے اور اس کے کلام کو سنتا رہے اور اثنائے تقریر یا تحریر میں اگر کوئی شبہ یا دغدغہ پیدا ہو تو اسے مخفی نہ رکھے بلکہ انشراح صدر سے اسی وقت ظاہر کرے تاکہ اسی آن میں تدارک کیا جاوے اور وہ کانٹا جو دل میں چبھا اور ہے نکالا جاوے تا کہ وہ اس کے ساتھ روحانی توجہ سے استفادہ حاصل کر سکے ۔ ایک بات یہ کہ صبر سے صحبت میں رہے اور ہر ایک بات توجہ سے سنے اور شبہ کو مخفی نہ رکھے کیونکہ اس کا اخفاز ہر کی طرح مہلک اثر رکھتا ہے جو کہ اندر ہی اندر سرایت کر کے ہلاک کر دیتا ہے اور اکثر آدمی اس سے ہلاک ہو جاتے ہیں ۔ دوسری بات یہ ہے کہ جب آسمان سے ایک نیا انتظام ہوتا ہے تو کوئی نہ کوئی مامور آتا ہے اور چونکہ اس کا فعل یہی ہوتا ہے کہ ہر ایک فرقہ کی غلطی نکالے اس لیے سب لوگ اس کے دشمن ہو جاتے ہیں اور ہر طرح سے اذیت اور تکلیف دینے کی کوشش کرتے ہیں تو جب کوئی اس کے سلسلہ میں داخل ہوتا ہے تو اسے بھی یہ تمام دکھ برداشت کرنے پڑتے ہیں دشمنوں کے خطرناک حملے اس پر بھی ہوتے ہیں۔ ہر ایک دوست اور اپنا بیگانہ دشمن ہو جاتا ہے اور جس جس پر اسے امید ہوتی ہے وہ تمام خاک ل البدر جلد ۲ نمبر ۴۰ مورخه ۲۳ را کتوبر ۱۹۰۳ ء صفحه ۳۱۸