ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 288 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 288

حضرت اقدس۔اگر غریب ہو تو آمدورفت کا کرایہ ہم دے دیا کریں گے اگر ہم اس طرح بوجہ نہ ہونے فر صت کے سو دفعہ واپس کریں گے تو سودفعہ کرایہ دیویں گے۔میاں گل محمد صاحب نے کرایہ اس دفعہ کا طلب کیا اور اسی وقت ان کی غربت کا خیال کرکے ان کی درخواست پر (تین) روپیہ ان کو دے دیئے گئے ان باتوں پر بعض احباب میں چر چاہوا تو میاں گل محمد صاحب نے حضرت اقدس کو مخاطب ہو کر کہا۔گل محمد صاحب۔آپ تو تمسخر کرتے ہیں۔حضرت اقدس۔یہ یادرکھیے۔ہمارے کام محض لِلہ ہیں۔یہاں تمسخر اور مذاق نہیں ہے ہم تو ہرایک بار اپنے اوپر ڈالتے ہیں۔اگرتمسخر ہوتا تو یہ زیر باری کیوں اختیار کرتے اور تین روپیہ آپ کو دے دیتے بلکہ تلاشِ حق کے لیے تو کوئی لنڈن سے بھی چل کر آوے تو ہم اس کا کرایہ دینے کو طیار ہیں۔۱ ۶؍ اکتو بر ۱۹۰۳ء آج کے دن میاں گل محمد صاحب نے پھر ایک حجت کھڑی کی اور حضرت اقدس کی تحریر لینے کی کوشش کی تاکہ لاہور میں وہ پیش کرسکیں چونکہ حضرت اقدس کتاب تذکرۃ الشہادتین کی تصنیف میں مصروف تھے اور آپ کو بالکل فرصت نہ تھی آپ نے مفتی محمد صادق صاحب کو جنہوں نے میاں گل محمد صاحب سے ملاقات اور گفتگو میں کمال انٹرسٹ لیا تھا فرمایا کہ وہ جواب دیویں مگر میاں گل محمد صاحب کس کی مانتے تھے۔آخر ان کے بڑے اصرار سے حضرت اقدس نے پھر ان کو ایک تحریر دی جس کی نقل ہم ذیل میں کرتے ہیں۔(ایڈ یٹر) نقل رقعہ منجانب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بنام میاں گل محمد صاحب عیسائی بشرط خیر وعافیت اور نہ پیش آنے کسی مجبوری کے میری طرف سے یہ وعدہ ہے کہ اگر ۲۰؍اکتوبر ۱۹۰۳ء ۱ البدرجلد ۲ نمبر ۳۹ مورخہ۱۶؍اکتوبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۳۰۵