ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 287 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 287

۵؍ اکتو بر ۱۹۰۳ء (دربار ِشام ) ایک عیسائی سے گفتگو وہ تمام اخبارات جو کہ ردّ نصاریٰ کے بارے میں یورپ اور امر یکہ سے آئے تھے پڑھے جانے کے بعد میاں گل محمد صاحب ۱نے حضرت اقدس کو اپنی طرف مخاطب کیا اور کہا کہ میں آپ کے کہنے کے مطابق آیا ہوں۔حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ ہم نے تو آپ کو بذریعہ تا راور خط کے منع کر دیا تھا کہ آپ نہ آویں۔علا لتِ طبع اور ایک ضروری کام میں مصروفیت کی وجہ سے فرصت نہیں۔اب آپ آگئے ہیں تو مجھے آپ کے آنے کی خوشی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ کوئی تحقیق کے واسطے میرے پاس آوے۔زمانہ دن بدن راستی اختیار کرتا جاتا ہے عیسائی مذہب کی تردید اور کسر صلیب کے لئے جو کچھ مجھے خدا نے عطا کیا ہے اس کو بتلانے کو میں ہروقت طیار ہوں لیکن دوسرے موقع پر جب آپ آویں گے تو جیسے آپ کا حق ہوگا کہ سوال کریں ویسا ہی میرا حق ہوگا کہ ایک سوال کروں اور وہ سوال صرف مسیح کی الو ہیت تثلیث اور چال چلن کی نسبت ہوگا لیکن جیسے میں نے اس سوال کو مشخص کر دیا ہے۔ویسے ہی آپ کو لازم ہے کہ آپ بھی اپنے سوال کومشخص کر دیویں کہ طیاری کا موقع مل جاوے۔گل محمد صاحب۔ہاں آپ بھی ایک سوال کریں جیسے مجھے تلاشِ حق کی ضرورت ہے ویسے ہی آپ پر ضروری ہے کہ آپ اظہار ِحق کریں۔حضرت اقدس۔یہ آپ سچ کہتے ہیں مگر میرے اظہار ِحق کی شہادت تو یو رپ اور امر یکہ دے رہا ہے۔ابھی آپ کے سامنے اخبارات پڑھے گئے ہیں۔گل محمد صاحب۔لیکن ایک بات ضروری ہے کہ اگر میں دوسرے موقع پر آؤں اور آپ کو پھر فرصت نہ ہو تو چونکہ میں ایک غریب آدمی ہوں اس لیے آمد ورفت کا خرچہ آپ پرہوگا۔۱ عیسائی (مرتّب)