ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 286 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 286

انسان کی سخت دلی اصل میں امیدوں پر ہوتی ہے۔لیکن انبیاء کی یہ حالت نہیں ہوتی۔جس قدر انبیاء ہوئے ہیں سب کی یہ حالت رہی ہے کہ اگر شام ہوئی ہے تو صبح کو ان کو امید نہیں کہ ہم زندہ رہیں گے اور اگر صبح ہوئی ہے تو شام کی امید نہیں کہ ہم زندہ رہیں گے۔جب تک انسان کا یہ خیال نہ ہو کہ میں ایک مَرنے والا ہوں تب تک وہ غیر اللہ سے دل لگانا چھوڑ نہیں سکتا اور آخر اس قسم کے افکار میں جان دیتا ہے مَرنے کے وقت کا کسی کو کیا علم ہوتا ہے موت تو نا گہانی آ جاتی ہے اگر کوئی غورکرے تو اسے معلوم ہو کہ یہ دنیا اور اس کا مال و متاع اور حظّ سب فانی اور جھوٹے ہیں آخر کار وہ یہاں سے تہی دست جاوے گا اور اصل مطلوب جس سے وہ خوش رہ سکتا ہے وہ خدا سے دل لگانا ہے اور گناہ کی دلیری سے آزاد رہنا۔کہنے کو یہ آسان ہے اور ہر ایک زبان سے کہہ سکتا ہے کہ میرا دل خدا سے لگا ہوا ہے مگر اس کا کرنا مشکل ہے۔ایک دوکاندار کو دیکھو کہ وہ وزن تو کم تولتا ہے مگر زبان سے صوفیانہ کافیاں ایسی گاتا جاوے گا کہ دوسرے کو معلوم ہو یہ بڑا خدا رسیدہ ہے۔ایسی حالت میں لفظ اور باتیں تو زبان سے نکلتی ہیں مگر دل ان کی تکذیب کرتا ہے۔سجادہ نشینوں کو ایسے قصے یاد ہوتے ہیں کہ دوسرا انسان سن کر گرویدہ ہو جاتا ہے حالانکہ خود ان کا عمل درآمدان پر مطلق نہیں ہوتا۔مگر تاہم ایسے انسان بھی ہوتے ہیں کہ وہ بات کو سمجھ لیتے ہیں اور اس دنیا اور ما فیہا کا چھوڑ نا ان پر آسان ہوتا ہے جیسے کہ ابراہیم ادھم وغیرہ بادشاہ ہوئے ہیں کہ انہوں نے سلطنت کو ترک کر دیا۔جب خوفِ الٰہی ان کے قلب پر غالب ہوا تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ اب دنیا اور یہ خوف ایک جا جمع نہیں ہوسکتے اس لیے دنیا کو چھوڑ دیا۔جب ایک شخص ایک نا پا ئدا ر لذّت میں مصروف ہو تو جب اسے چھوڑے گا اسی قدر اسے رنج ہوگا۔دنیا سے دل لگانے سے دل سیاہ ہو جاتا ہے اور آئندہ نیکی کی مناسبت اس سے نہیں رہتی۔مسلمانوں میں اگرچہ فاسق فاجر بادشاہ بھی گذرے ہیں مگر ایسے بھی بہت ہیں کہ انہوں نے پاکبازی اور راستی اختیار کی۔۱ ۱ البدرجلد ۲ نمبر ۳۸ مورخہ۹؍اکتوبر ۱۹۰۳ءصفحہ۲۹۸،۲۹۹