ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 284 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 284

کہ یہاں آکر چند روز رہیں اور اپنے شبہات پیش کرکے پختگی حاصل کریں تو پھر ان سے دوسرے مخالف اور عیسائی ایسے بھاگیں گے جیسے لَا حَوْلَ سے شیطان بھاگتا ہے۔تعجب ہے کہ لوگ کس طرح شیطان کے بہکا نے میں آجاتے ہیں مگر یہ سب ایمان کی کمزوری کا باعث ہوتا ہے۔بھلا مومن کیا اور شیطان کا بہکا ناکیا۔معلوم ہوتا ہے کہ جو بہکتا ہے وہ خود شیطان ہے ورنہ سوچ کر دیکھا جاوے کہ اب ہمارے مخالفوں کے ہاتھ میں کیا رہ گیا ہے۔یہ لوگ چاہتے ہیں کہ جو کچھ رطب ویا بس ان کے ہاتھ میں ہے وہ ایک ایک حرف پورا ہو حا لا نکہ نہ کبھی ایسا ہوا ہے اور نہ ہوگا یہودیوں کی احادیث اس قدر تھیں کہ وہ نہ حضرت عیسیٰ پر حرف بحرف پوری ہوئیں اور نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اور اسی لیے بہتوں نے ٹھوکر کھا ئی مگر بعض یہودی جو مسلمان ہو گئے تو اس کی یہ وجہ تھی کہ جس قدر حصہ ان احادیث کا پورا ہو گیا انہوں نے اس کو سچا مان لیااور جو نہ پورا ہوا اس کو رطب و یا بس جان کر چھوڑدیا یا ان کے اور معنے کر لئے۔اگر وہ ایسا نہ کرتے تو پھر ان کو اسلام نصیب نہ ہوتا اور پھر اس کے علاوہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انوار وبرکات بھی دیکھے۔ہر ایک قوم کے پاس کچھ سچی کچھ جھوٹی کچھ صحیح اور کچھ غلط روایات ہوتی ہیں۔اگر انسان اسی بات پر اڑ جاوے کہ سب کی سب پوری ہوں تواس طرح سے کوئی شخص مان نہیں سکتا۔حَکَم کے یہی معنے ہیں کہ ان میں سے سچی اور جھوٹی کو الگ کرکے دکھا دیوے۔ہر ایک جو بیعت کرتاہے اسے واجب ہے کہ ہمارے دعویٰ کو خوب سمجھ لیوے ورنہ اسے گناہ ہوگا۔