ملفوظات (جلد 5) — Page 274
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۷۴ جلد پنجم ندان میں روحانیت ہے اور نہ وہ کشش مقناطیسی ہے جس سے ایک قوم ترقی کر سکتی ہے وہ ایک خاص کشش ہوتی ہے جو کہ انبیاء علیہم السلام کو دی جاتی ہے اور تمام پاکیزہ دلوں کو وہ محسوس ہوتی ہے اور جو اس سے مؤثر ہوتے ہیں وہ ایک فوق العادت زندگی کا نمونہ دکھلاتے ہیں اور ہیروں کے ٹکڑوں کی طرح اس کشش کی چمک نظر آتی ہے اور جس کو وہ کشش عطا ہوتی ہے وہ الہی طاقتوں کا سر چشمہ ہوتا ہے اور خدا کی نادر او مخفی قدرتیں جو عام طور پر ظاہر نہیں ہوتیں ، ایسے شخص کے ذریعہ ظاہر ہوتی ہیں اور اسی کشش سے ان کو کامیابی ہوتی ہے۔ دنیا میں جس قدر انبیاء آئے ہیں کیا وہ دنیا کے سارے مکروفریب اور فلسفے سے پورے واقف ہو کر آتے ہیں جس سے وہ مخلوق پر غالب ہوتے ہیں؟ ہرگز نہیں بلکہ ان میں ایک کشش ہوتی ہے جس سے لوگ ان کی طرف کھچے چلے آتے ہیں اور جب دعا کی جاتی ہے وہ کشش کے ذریعہ سے زہریلے مادہ پر جو لوگوں کے اندر ہوتا ہے اثر کرتی ہے اور اس روحانی مریض کو تسلی اور تسکین بخشتی ہے یہ ایک ایسی بات ہے جو کہ بیان میں ہی نہیں آسکتی اور اصل مغز شریعت کا یہی ہے کہ وہ کشش طبیعت میں پیدا ہو جاوے۔ سچی تقوی اور استقامت بغیر اس صاحب کشش کی موجودگی کے پیدا نہیں ہو سکتے اور نہ اس کے سوا قوم بنتی ہے یہی کشش ہے جو کہ دلوں میں قبولیت ڈالتی ہے۔ اس کے بغیر ایک غلام اور نو کر بھی اپنے آقا کی خاطر خواہ فرماں برداری نہیں کر سکتا اور اسی کے نہ ہونے کی وجہ سے نوکر اور غلام جن پر بڑے انعام واکرام کئے گئے ہوں آخر کار نمک حرام نکل جاتے ہیں۔ بادشاہوں کی ایک تعداد کثیر ایسے غلاموں کے ہاتھ سے ذبح ہوتی رہی لیکن کیا کوئی ایسی نظیر انبیاء میں دکھلا سکتا ہے کہ کوئی نبی اپنے کسی غلام یا مرید سے قتل ہوا ہے مال اور زر اور کوئی اور ذریعہ دل کو اس طرح سے قابو نہیں کر سکتا جس طرح سے یہ کشش قابو کرتی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ کیا بات تھی کہ جس کے ہونے سے صحابہ نے اس قدر صدق دکھایا اور انہوں نے نہ صرف بت پرستی اور مخلوق پرستی ہی سے منہ موڑا بلکہ در حقیقت ان کے اندر سے دنیا کی طلب ہی مسلوب ہو گئی اور وہ خدا کو : دیکھنے لگ گئے وہ نہایت سرگرمی سے خدا کی راہ میں ایسے فدا تھے کہ گویا ہر ایک ان میں سے ابراہیم تھا۔ انہوں نے کامل اخلاص سے خدا کا جلال ظاہر کرنے کے لیے وہ کام کیے جس کی نظیر بعد اس کے