ملفوظات (جلد 5) — Page 269
قرآن اور حدیث بھی ہمارے ساتھ ہے وہ ان کی شانِ نبوت کے ساتھ خوب چسپاں ہوتی ہے کہ جب ان لوگوں نے حضرت مسیحؑ کو نہ مانا تو آپ دوسرے نبیوں کی طرح دوسرے ملک میں ہجرت کرکے چلے گئے۔اور پھر ایسے فرضی اوصاف ان کے لیے وضع کرتے ہیں جن سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک اور ہجو ہو کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کفار نے سوال کیا کہ آپ آسمان پر چڑھ کر بتلاویں تو آپ نے یہ معجزہ ان کو نہ دکھلا یا اور سُبْحَانَ رَبِّيْ (بنی اسـرآءیل :۹۴) کا جواب دیا گیا اور یہاں بلادرخواست کسی کافر کے خود خدا تعالیٰ مسیحؑ کو آسمان پر لے گیا تو گویا خدا تعالیٰ نے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار کی نظروں میں ہیٹا کرانا چاہا کیا وہ خدا اَور تھا اور یہ اَورتھا؟ اگرچہ لوگ ہمیں ایسی باتوں سے کافر دجال وغیرہ کہتے ہیں مگر یہ ہمارا فخر ہے کیونکہ قرآن کی تائید اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت قائم کرنے کے لیے یہ خطابات ہمیں ملتے ِہیں۔؎ بعد از خدا بعشقِ محمد مخمرم گر کفر ایں بود بخدا سخت کافرم مسئلہ تقدیر آریہ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن شریف میں لکھا ہے خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ (البقرۃ:۸) کہ خدا نے دلوں پر مہر کر دی ہے تو اس میں انسان کا کیا قصور ہے؟ یہ ان لوگوں کی کوتاہ اندیشی ہے کہ ایک کلام کے ما قبل اور ما بعد پر نظر نہیں ڈالتے ورنہ قرآن شریف نے صاف طور پر بتلایا ہے کہ یہ مہر جو خدا کی طرف سے لگتی ہے یہ دراصل انسانی افعال کا نتیجہ ہے کیونکہ جب ایک فعل انسان کی طرف سے صادر ہوتا ہے تو سنّت اللہ یہی ہے کہ ایک فعل خدا کی طرف سے بھی صادر ہو جیسے ایک شخص جب اپنے مکان کے دروازے بند کر دے تو یہ اس کا فعل ہے اور اس پر خدا کا فعل یہ صادر ہوگا کہ اس مکان میں اندھیرا کر دے کیونکہ روشنی اندر آنے کے جوذریعے تھے وہ اس نے خود اپنے لیے بند کر دیئے۔اسی طرح اس مہر کے اسباب کا ذکر خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں دوسری جگہ کیاہے جہاں لکھا ہے فَلَمَّا زَاغُوْۤا اَزَاغَ اللّٰهُ ( الصّف:۶) کہ جب انہوں نے کجی اختیار کی تو خدا نے ان کو کج کر دیا۔اسی کا نام مہر ہے لیکن ہمارا خدا ایسا نہیں کہ پھر اس مہر کو دور نہ کرسکے