ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 259 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 259

اس کے۱ بعد عدالت کا وقت قریب آگیا اور حضرت اقدس اور دیگر احباب کھانا وغیرہ تناول فرماکر عدالت کو روانہ ہوئے۔۲ ۲۰؍ اگست ۱۹۰۳ء (بوقتِ شام) مامور کی دشمنی فرمایا کہ دشمنی دشمنوں کی یہ بھی ایک قبولیت ہوتی ہے اور منجانب اللہ نصیب ہوتی ہے۔رسول کا عالم الغیب ہونا اکثر لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ رسول عالم الغیب ہوتے ہیں چنانچہ بعض تو حضرت مسیح موعودؑ کی نسبت یہ خیال رکھتے ہیں کہ ان کا دعویٰ عالم الغیب ہونے کا ہے۔اس پر آپ نے فرمایا کہ یہ ان لوگوں کی غلطی ہے عالم الغیب ہونا اَور شَے ہے اور مؤیّدمن اللہ ہونا اَور شَے ہے۔۳ ۲۱؍اگست ۱۹۰۳ء (دربارِ شام) وحی منقطع ہو گئی ہے یا برابر جا ری ہے ایک صاحب نے سوال کیا کہ انقطاعِ وحی کی نسبت جو حکم آچکا ہے تو پھر اب وحی کیوں ہوئی اور آج تک سوائے جناب کے اور کسی نے کیوں صاحبِ وحی ہونے کا دعویٰ نہ کیا؟ حضرت اقدس۔اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ آج تک کسی نے دعویٰ نہ کیا؟ سائل۔جہاں تک میری معلومات ہیں وہاں تک میں نے نہیںدیکھا؟ حضرت اقدس۔آپ کی معلومات تو چند ایک کتابیں حدیث کی اور اَور دوسری ہوں گی اس سے ۱یہ ملفوظات ۱۸؍ یا ۱۹؍ اگست ۱۹۰۳ء کے ہیں۔ان دنوں حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام مقدمہ کے سلسلہ میں گورداسپور تشریف فرما تھے اور انہی ایام کی یہ ڈائری ہے جیسا کہ فقرہ سے معلوم ہوتا ہے۔(مرتّب) ۲البدر جلد ۲ نمبر ۳۳ مورخہ ۴؍ ستمبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۵۷، ۲۵۸ ۳ البدرجلد ۲ نمبر ۳۳ مورخہ ۴؍ستمبر۱۹۰۳ء صفحہ۲۵۸