ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 246 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 246

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۶ راگست ۱۹۰۳ء در بار شام) ۲۴۶ جلد پنجم فرمایا کہ دوقو تیں انسان کو منجر به جنون کر دیتی ہے ایک بدظنی اور ایک جنون کے اسباب غضب جبکہ افراط تک پہنچ جاویں ایک شخص کا حال سنا کہ وہ نماز پڑھا وو کرتا تھا کہ اول ابتدا جنون کی اس طرح سے شروع ہوئی کہ اسے نماز کی نیت کرنے میں شبہ پیدا ہونے لگا اور جب پیچھے اس امام کے کہا کرے تو امام کی طرف انگلی اٹھا دیا کرے پھر اس کی تسلی اس سے نہ ہوئی تو امام کے جسم کو ہاتھ لگا کر کہا کرے کہ پیچھے اس امام کے پھر اور ترقی ہوئی تو ایک دن امام کو دھکا دے کر کہا کہ پیچھے اس امام کے پس لازم ہے کہ انسان بدظنی اور غضب سے بہت بچے سوائے راستبازوں کے باقی جس قدر لوگ دنیا میں ہوتے ہیں ہر ایک کچھ نہ کچھ حصہ جنون کا ضرور رکھتا ہے جس قدر قوی ان کے ہوتے ہیں ان میں ضرور افراط تفریط ہوتی ہے اور اس سے جنون ہوتا ہے۔ غضب اور جنون میں فرق یہ ہے کہ اگر سر سری دورہ ہو تو اسے غضب کہتے ہیں اور اگر وہ مستقل استحکام پکڑ جاوے تو اس کا نام جنون ہے۔ نہ چاندی پر ذکر ہوا فر ما یا کہ جنت میں چاندی کا ذکر کیوں ہے چاندی کے بیچ میں ایک جو ہر محبت ہے اس لیے یہ زیادہ مرغوب ہوتی ہے ۔ اکثر لوگ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ جنت کی نعماء میں چاندی کے برتنوں کا ذکر ہے حالانکہ اس سے بیش قیمت سونا ہے ۔ وہ لوگ اس راز کو جو کہ خدا تعالیٰ نے چاندی میں رکھا ہے نہیں سمجھے۔ جنت میں چونکہ غیل اور کینہ اور بغض وغیرہ نہیں ہوگا اور آپس میں محبت ہوگی اور چونکہ چاندی میں جو ہر محبت ہے اس لیے اس نسبت باطنی سے جنت میں اسی کو پسند کیا گیا ہے۔ اس میں جو ہر محبت ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ اگر طرفین میں لڑائی ہو تو چاندی دے دینے سے صلح ہو جاتی ہے اور دور ہے۔ ہو پیش اور کدورت دور ہو جاتی ہے۔ کسی کی نظر عنایت حاصل کرنی ہو تو چاندی پیش کی جاتی ہے۔ علوم یا تو