ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 235 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 235

بناتی ہے اور نافع الناس ہونا درازی عمر کا اصل گُر ہے۔۱ فرمایا۔تیس۳۰ سال کے قریب گذرے کہ میں ایک بارسخت بیمار ہوا۔۲ اور اس وقت مجھے الہام ہوا اَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْاَرْضِ۔اس وقت مجھے کیا معلوم تھا کہ مجھ سے خلق خدا کو کیا کیا فوائد پہنچنے والے ہیں لیکن اب ظاہر ہوا کہ ان فوائد اور منافع سے کیا مُراد تھی۔غرض جو کوئی اپنی زندگی بڑھانا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ نیک کاموں کی تبلیغ کرے اور مخلوق کو فائدہ پہنچاوے۔جب اللہ تعالیٰ کسی دل کو ایسا پاتا ہے کہ اس نے مخلوق کی نفع رسانی کا ارادہ کر لیا ہے تو وہ اسے توفیق دیتا اور اس کی عمر دراز کرتا ہے۔جس قدر انسان اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے اور اس کی مخلوق کے ساتھ شفقت سے پیش آتا ہے اسی قدر اس کی عمر دراز ہوتی اور اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہوتا اس کی زندگی کی قدر کرتا ہے لیکن جس قدر وہ خدا تعالیٰ سے لا پروا اور لا ابالی ہوتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی پروا نہیں کرتا۔انسان اگر اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی زندگی وقف نہ کرے اور اس کی مخلوق کے لیے نفع رساں نہ ہو تویہ ایک بے کار اور نکمی ہستی ہو جاتی ہے بھیڑ، بکری بھی پھر اس سے اچھی ہے جو انسان کے کام تو آتی ہے لیکن یہ جب اشرف المخلوقات ہو کر اپنی نوع انسان کے کام نہیں آتا تو پھر بدترین مخلوق ہو جاتا ہے اسی کی طرف اشارہ کرکے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْۤ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ ثُمَّ رَدَدْنٰهُ البدرمیں ہے۔’’زندگی کے لمبا کرنے کا ایک ہی گُر ہے اور وہ یہ ہے جیسے کہ قرآن شریف میں لکھا ہے وَاَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْاَرْضِ جو شَے انسان کو زیادہ فائدہ رساں ہوتی ہے وہ زمین میں بہت دیر قائم رہتی ہے۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۳۰ مورخہ ۱۴؍اگست ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۳۴ ) ۲ البدر میں ہے۔’’قریب ۳۰ سال کا عرصہ گزرا ہے کہ ایک دفعہ مجھے سخت بخار چڑھا یہاں تک کہ میں نے سمجھا کہ اب آخری دم ہے اور جب میرا یہ خیال قریب قریب یقین کے ہوگیا تو تفہیم ہوئی اَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْاَرْضِ۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۳۰ مورخہ ۱۴؍اگست ۱۹۰۳ء صفحہ ۲