ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 234 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 234

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۳۴ جلد پنجم ہو اور پھر نجات کی امید؟ اس کا انکار کرنا ساری بدکاریوں اور بد معاشیوں کو جائز سمجھتا ہے کیونکہ وہ ان کو حرام ٹھہراتا ہے۔ لے کے ۲ را گست ۱۹۰۳ء (دربار شام) درازی عمر کا اصل گھر ہمارے کرم مخدوم ڈاکٹرسید تا شاہ صاحب نے اپنی رخصت کے ختم ہونے پر عرض کی کہ میں صبح جاؤں گا۔ فرمایا ۔ خط و کتابت کا سلسلہ قائم رکھنا چاہیے۔ ڈاکٹر صاحب نے عرض کی کہ حضور! میرا ارادہ بھی ہے کہ اگر زندگی باقی رہی تو انشاء اللہ بقیہ حصہ ملازمت پورا کرنے کے بعد مستقل طور پر یہاں ہی رہوں گا۔ فرمایا۔ یہ سچی بات ہے کہ اگر انسان تو بۃ النصوح کر کے اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی زندگی وقف کر دے اور لوگوں کو نفع پہنچاوے تو عمر بڑھتی ہے۔ اعلاء کلمۃ الاسلام کرتا رہے اور اس بات کی آرزو رکھے کہ اللہ تعالیٰ کی توحید پھیلے۔ اس کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ انسان مولوی ہو یا بہت بڑے علم کی ضرورت ہے بلکہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتا رہے۔ یہ ایک اصل ہے جو انسان کو نافع الناس ل البدر میں ہے ۔ رسول وہ ہوتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کے احسانات وانعاما احسانات وانعامات ہزا رہا ہوتے ہیں تو جو تے ہیں تو جو شخص اس کا انکار کرتا ہے وہ بڑا گناہ کرتا ہے اور اصل میں جو شخص کہ رسول اللہ کا انکار کرتا ہے دوسرے لفظوں میں وہ یہ کہتا ہے کہ ہر ایک حرام حلال ہے ۔ شراب بھی جائز ہے زنا بھی جائز ہے جھوٹ بھی جائز ہے گو یا سب صغائر و کبائر جائز ہیں کیونکہ رسول اللہ ان سب سے منع کرتے ہیں اور وہ جب ان ان کا انکار کرتا ہے تو ان کی تعلیم کا بھی انکار کرتا ہے یہ کب ہو سکتا ہے کہ ایک شخص ایک حکم کو تسلیم کرے لیکن جو وہ حکم لا یا اس سے انکار کرے تو پھر وہ حکم کیسے حکم رہ سکتا ہے۔“ البدر جلد ۲ نمبر ۳۰ مورخه ۱۴ اگست ۱۹۰۳ صفحه ۲۳۳، ۲۳۴) الحکم جلد ۷ نمبر ۳۱ مورخہ ۲۴ اگست ۱۹۰۳ صفحه ۲