ملفوظات (جلد 5) — Page 234
ہو اور پھر نجات کی امید؟ اس کا انکار کرنا ساری بدکاریوں اور بدمعاشیوں کو جائز سمجھتا ہے کیونکہ وہ ان کو حرام ٹھہراتا ہے۔۱،۲ ۲؍اگست ۱۹۰۳ء (دربارِ شام) درازی عمرکا اصل گُر ہمارے مکرم مخدوم ڈاکٹر سید ستار شاہ صاحب نے اپنی رخصت کے ختم ہونے پر عرض کی کہ میں صبح جاؤں گا۔فرمایا۔خط وکتابت کا سلسلہ قائم رکھنا چاہیے۔ڈاکٹر صاحب نے عرض کی کہ حضور! میرا ارادہ بھی ہے کہ اگر زندگی باقی رہی تو انشاء اللہ بقیہ حصہ ملازمت پورا کرنے کے بعد مستقل طور پر یہاں ہی رہوں گا۔فرمایا۔یہ سچی بات ہے کہ اگر انسان تو بۃ النصوح کرکے اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی زندگی وقف کر دے اور لوگوں کو نفع پہنچاوے تو عمر بڑھتی ہے۔اعلاء کلمۃ الاسلام کرتا رہے اور اس بات کی آرزو رکھے کہ اللہ تعالیٰ کی توحید پھیلے۔اس کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ انسان مولوی ہو یا بہت بڑے علم کی ضرورت ہے بلکہ اَمربالمعروف اور نہی عن المنکرکرتا رہے۔یہ ایک اصل ہے جو انسان کو نافع الناس ۱ البدر میں ہے۔’’رسول وہ ہوتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کے احسانات و انعامات ہزار ہا ہوتے ہیں تو جو شخص اس کا انکار کرتا ہے وہ بڑا گناہ کرتا ہے اور اصل میں جو شخص کہ رسول اللہ کا انکار کرتا ہے دوسرے لفظوں میں وہ یہ کہتا ہے کہ ہر ایک حرام حلال ہے۔شراب بھی جائز ہے زنا بھی جائز ہے جھوٹ بھی جائز ہے گویا سب صغائر و کبائرجائز ہیں کیونکہ رسول اللہ ان سب سے منع کرتے ہیں اور وہ جب ان کا انکار کرتا ہےتو ان کی تعلیم کا بھی انکار کرتا ہے یہ کب ہو سکتا ہے کہ ایک شخص ایک حکم کو تسلیم کرے لیکن جو وہ حکم لایا اس سے انکار کرے تو پھر وہ حکم کیسے حکم رہ سکتا ہے۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۳۰ مورخہ ۱۴؍اگست ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۳۳ ،۲۳۴) ۲ الحکم جلد ۷ نمبر ۳۱ مورخہ ۲۴ ؍اگست ۱۹۰۳ءصفحہ ۲