ملفوظات (جلد 5) — Page 233
ملفوظات حضرت مسیح موعود گناہوں کا مواخذہ کرتا ہے۔ ۲۳۳ جلد پنجم ہاں ہمارا یہ مذہب ہر گز نہیں ہے کہ گناہ گاروں کو ایسی سزا ابدی ملے گی کہ اس سے پھر کبھی نجات ہی نہ ہو گی بلکہ ہمارا یہ مذہب ہے کہ آخر اللہ تعالیٰ کا فضل اور رحم گناہ گاروں کو بچالے گا اور اسی لیے قرآن شریف میں جہاں عذاب کا ذکر کیا ہے وہاں فعال لِمَا يُرِيدُ (هود: ۱۰۸) فرمایا ہے۔ گناہ دو قسم کے ہوتے ہیں ایک بندوں کے اور ایک خدا کے۔ جیسے چوری ہے یہ عبد کا گناہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی چوری شرک ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی صفات کو چرا کر دوسرے کو دیتا ہے چونکہ یہ ایک بڑی ہے زبردست ہستی کی چوری ہے اس لیے اس کی سزا بھی بہت ہی بڑی ملتی ہے۔ جو لوگ اس قسم کے سوال کرتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کو اپنے قانون اور مرضی کے ماتحت رکھنا چاہتے ہیں کہ جس گناہ کو یہ چاہیں اسے بخش دے اور جس کو نہ چاہیں اسے نہ بخشے اس طرح پر کیسے ہو سکتا ہے؟ ! یہاں دنیا میں اس کا نمونہ نہیں تو آخرت میں کیسے؟ کوئی وائسرائے کو لکھ دے کہ فلاں مجرم کو سزا نہ دی جائے اور تعزیرات ہند کو موقوف کر دیا جاوے تو کیا ایسی درخواست منظور ہو سکتی ہے؟ کبھی نہیں ۔ اس طرح پر تو اباحت کی بنیاد رکھی جاتی ہے کہ جو چاہو سو کرو ۔ اے پھر اسی خط میں ایک دوسرا سوال یہ بھی تھا کہ کیوں رسول اللہ ایمان بالرسل کی ضرورت صلی اللہ علیہ سلم کے مانے کے بغیر نجات نہیں ہوسکتی؟ اس پر فرمایا کہ رسول وہ ہوتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور احسانات ہوتے ہیں پس جو شخص اس کا انکار کرتا ہے وہ بہت خطرناک جرم کا مرتکب ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ شریعت کے سارے سلسلہ کو باطل کرنا چاہتا ہے اور حلت حرمت کی قید اٹھا کر اباحت کا مسئلہ پھیلانا چاہتا ہے اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیسے نجات کا مانع نہ ہو؟ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جولا انتہا برکات اور فیوض لے کر آیا ہے اس کا انکار ل البدر میں ہے۔ پھر جس حال میں یہاں قانون میں ان کی دخل اندازی نہیں ہوسکتی تو خدا تعالیٰ کے قانون میں وہ کیوں تغیر و تبدل چاہتے ہیں؟“ ( البدر جلد ۲ نمبر ۳۰ مورخه ۱۴ را گست ۱۹۰۳ ء صفحه ۲۳۳)