ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 215 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 215

ایک حدیث میں آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر کوئی میرے پیچھے نماز ایک مرتبہ پڑھ لیوے تو وہ بخشا جاتا ہے۔اس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ جو لوگ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ کے مصداق ہو کر نماز کو آپ کے پیچھے ادا کرتے ہیں تو وہ بخشے جاتے ہیں۔اصل میں لوگ نماز میں دنیا کے۱ رونے روتے رہتے ہیں اور جو اصل مقصود نماز کا قرب الی اللہ اور ایمان کا سلامت لے جانا ہے اس کی فکر ہی نہیں حالانکہ ایمان سلامت لے جانا بہت بڑا معاملہ ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ جب انسان اس واسطے روتا ہے کہ مجھ کو باایمان اللہ تعالیٰ دنیا سے لے جاوے تو خدا تعالیٰ اس کے اوپر دوزخ کی آگ حرام کرتا ہے اور بہشت ان کو ملے گا جو اللہ تعالیٰ کے حضور میں حصول ایمان کے لئے روتے ہیں۔مگر یہ لوگ جب روتے ہیں تو دنیا کے لیے روتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ ان کو بھلادے گا۔اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَاذْكُرُوْنِيْۤ۠ اَذْكُرْكُمْ(البقرۃ:۱۵۳)تم مجھ کو یاد رکھو میں تم کو یاد رکھوں گا یعنی آرام اَور خوشحالی کے وقت تم مجھ کو یاد رکھو اور میرا قرب حاصل کرو تاکہ مصیبت میں تم کو یاد رکھوں۔یہ ضروریاد رکھنا چاہیے کہ مصیبت کا شریک کوئی نہیں ہوسکتا۔اگر انسان اپنے ایمان کو صاف کرکے اور دروازہ بند کرکے رووے بشرطیکہ پہلے ایمان صاف ہو تو وہ ہرگزبے نصیب اور نامُراد نہ ہوگا۔حضرت دائود ؑفرماتے ہیں کہ میں بڈھا ہوگیا مگر میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ جو شخص صالح ہو اور باایمان ہو پھر اس کو دشواری پیش ہو اور اس کی اولاد بے رزق ہو۔پھر دوسری جگہ فرماتا ہے وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِفَتٰىهُ لَاۤ اَبْرَحُ حَتّٰى۔۔۔الـخ(الکھف:۶۱)اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک دفعہ حضرت موسٰی وعظ فرما رہے تھے کسی نے پوچھا کہ آپ سے کوئی اور بھی علم میں زیادہ ہے تو انہوں نے کہاکہ مجھے معلوم نہیں۔اللہ تعالیٰ کو یہ بات ان کی پسند نہ آئی (یعنی یوں کہتے کہ خدا کے بندے بہت سے ہیں جو ایک سے ایک علم میں زیادہ ہیں )اور حکم ہوا کہ تم فلاں طرف چلے جائو جہاں تمہاری مچھلی زندہ ہو جائے گی وہاں تم کو ایک علم والا شخص ملے گا۔پس جب وہ ادھر گئے تو ایک جگہ ۱البدر جلد ۲ نمبر ۲۸ مورخہ ۳۱؍ جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۱۸