ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 14 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 14

کی طرف سے پاک نبی اور قرآن شریف خدا کا کلام برحق نہیں۔اور حضرت مسیحؑ زندہ نہیں بلکہ مَر کر کشمیر سرینگر محلہ خانیار میں مدفون ہیں۔یہی سچا عقیدہ ہے۔طلاق اور حلالہ ایک صاحب نے یہ سوال کیا کہ جو لوگ ایک ہی دفعہ تین طلاق لکھ دیتے ہیں ان کی وہ طلاق جائز ہو تی ہے یا نہیں؟ اس کے جواب میں فرمایا کہ قرآن شریف کے فرمودہ کی رُو سے تین طلاق دی گئی ہوںاور ان میں سے ہر ایک کے درمیان اتناہی وقفہ لکھا گیا جو قرآن شریف نے بتایا ہے تو ان تینوںکی عدت کے گذرنے کے بعداس خاوند کا کوئی تعلق اس بیوی سے نہیں رہتا۔ہاں اگر کوئی اور شخص اس عورت سے عدت گزرنے کے بعد نکاح کرے اور پھر اتفاقاً وہ اس کو طلاق دیدے تو اس خاوند اوّل کو جائزہے کہ اس بیوی سے نکاح کرلے مگر اگر دوسرا خاوند، خاونداوّل کی خاطر سے یا لحاظ سے اس بیوی کو طلاق دے کہ تا وہ پہلا خاوند اس سے نکاح کرلے تو یہ حلالہ ہوتا ہے اور یہ حرام ہے۔لیکن اگر تین طلاق ایک ہی وقت میں دی گئی ہوں تو اس خاوند کو یہ فائدہ دیا گیا ہے کہ وہ عدت کے گذرنے کے بعد بھی اس عورت سے نکاح کرسکتا ہے کیونکہ یہ طلاق ناجائز طلاق تھا اور اللہ و رسول کے فرمان کے موافق نہ دیا گیا تھا۔دراصل قرآن شریف میں غور کرنے سے صاف معلوم ہوتاہے کہ خدا تعالیٰ کو یہ اَمر نہایت ہی ناگوار ہے کہ پُرانے تعلقات والے خاوند اور بیوی آپس کے تعلقات کو چھوڑکر الگ الگ ہو جائیں۔یہی وجہ ہے کہ اس نے طلاق کے واسطے بڑے بڑے شرائط لگائے ہیں۔وقفہ کے بعدتین طلاق کا دینااور ان کا ایک ہی جگہ رہناوغیرہ یہ امور سب اس واسطے ہیں کہ شاید کسی وقت ان کے دلی رنج دورہو کرآپس میں صُلح ہو جاوے۔اکثر دیکھا جاتا ہے کہ کبھی کوئی قریبی رشتہ دار وغیرہ آپس میں لڑائی کرتے ہیں اور تازے جوش کے وقت میں حکام کے پاس عرضی پرچے لے کر آتے ہیں تو آخر دانا حکام اس وقت ان کو کہہ دیتے ہیں کہ ایک ہفتہ کے بعد آنا۔اصل غرض ان کی صرف یہی ہوتی ہے کہ یہ آپس میں صلح کر لیں گے اور ان کے یہ جوش فرو ہوں گے تو پھر ان کی مخالفت باقی نہ