ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 211 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 211

ہوتے ہیں پس اس کو کیا خبر ہے کہ کیا کچھ لکھا ہوا ہے پس انسان کو چاہیے کہ اپنے عیبوں کو شمار کرے اور دعا کرے پھر اللہ تعالیٰ بچاوے تو بچ سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مجھ سے دعا کرومَیں مانوں گا۔اُدْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ(المؤمن:۶۱)۔دعا اور صحبت صالحین دو چیزیں ہیں ایک تو دعا کرنی چاہیے۔دوسرا طریق یہ ہے کہ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ(التوبۃ:۱۱۹) راست بازوں کی صحبت میں رہو تاکہ ان کی صحبت میں رہ کرکے تم کو پتا لگ جاوے کہ تمہارا خدا قادر ہی بینا ہے، سننے والا ہے، دعائیں قبول کرتا ہے اور اپنی رحمت سے بندوں کو صدہانعمتیں دیتا ہے جو لوگ ہر روز نئے گناہ کرتے ہیں وہ گناہ کو حلوے کی طرح شیریں خیال کرتے ہیں ان کو خبر نہیں کہ یہ زہر ہے کیونکہ کوئی شخص سنکھیا جان کر نہیں کھا سکتا کوئی شخص بجلی کے نیچے نہیں کھڑا ہوتا اور کوئی شخص سانپ کے سوراخ میں ہاتھ نہیں ڈالتا اور کوئی شخص کھانا شکی نہیں کھا سکتا اگرچہ اس کو کوئی دوچار روپے بھی دے۔پھر باوجود اس بات کے جو یہ گناہ کرتا ہے کیا اس کو خبر نہیں ہے۔پھر کیوں کرتا ہے؟ اس کی وجہ یہی ہے کہ اس کا دل مضریقین نہیں کرتا اس واسطے ضرور ہے آدمی پہلے یقین حاصل کرے۔جب تک یقین نہیں غور نہیں کرے گا اور کچھ نہ پائے گا بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے پیغمبروں کا زمانہ بھی دیکھ کر ان کو ایمان نہ آیا اس کی وجہ یہی تھی کہ انہوں نے غور نہیں کی۔دیکھو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا (بنی اسـرآءیل:۱۶) ہم عذاب نہیں کیا کرتے جب تک کوئی رسول نہ بھیج دیویں اور وَ اِذَاۤ اَرَدْنَاۤ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْيَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِيْهَا فَفَسَقُوْا فِيْهَا فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِيْرًا(بنی اسـرآءیل:۱۷) پہلے امراء کو اللہ تعالیٰ مہلت دیتا ہے وہ ایسے افعال کرتے ہیں کہ آخراُن کی پاداش میں ہلاک ہو جاتے ہیں غرضیکہ ان باتوں کویاد رکھو اور اولاد کی تربیت کرو، زنا نہ کرو، کسی شخص کا خون نہ کرو، اللہ تعالیٰ نے ساری عبادتیں ایسی رکھی ہیں جو بہت عمدہ زندگی تک پہنچاتی ہیں عہد کرو اور عہد کو پورا کرو۔۔۔۔۔اگر تکبر کروگی تو تم کو خدا ذلیل کرے گا۔یہ ساری باتیں بُری ہیں۔۱ ۱ البدر جلد۲نمبر۲۸مورخہ۳۱؍جولائی۱۹۰۳ء صفحہ ۲۱۷ ، ۲۱۸