ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 207 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 207

یہ کیا بات ہے کہ پتھروں پرہوئی۔یہی بارش کھیتوںپر ہوتی تو کیا اچھا ہوتا اس پر خدا نے اس کا سارا ولی پُنا چھین لیا آخر وہ بہت ساغمگین ہوا اور کسی اَور بزرگ سے استمداد کی توآخر اس کوپیغام آیا کہ تو نے اعتراض کیوں کیا تھا تیری اس خطاپر عتاب ہوا ہے اس نے کسی سے کہا کہ ایسا کر کہ میری ٹانگ میں رسّہ ڈال کر پتھروں پر گھسیٹتا پھر اس نے کہا کہ ایسا کیوں کروں؟ اس عابد نے کہا کہ جس طرح میں کہتا ہوں اسی طرح کرو۔آخر اس نے ایسا ہی کیا یہاں تک کہ اس کی دونوں ٹانگیں پتھروں پر گھسیٹنے سے چھل گئیں۔تب خدا نے فرمایا کہ بس کر اب معاف کردیا۔اب دیکھو کہ لوگ کتنے اعتراض کرتے ہیں ذرا زیادہ بارش ہو جاوے تو کہتے ہیں کہ ہم کو ڈبونے لگ گیا ہے اور ذراتوقّف بارش میں ہو توکہتے ہیں کہ اب ہم کو مارنے لگا ہے یہ اعتراض کیسے بُرے ہوتے ہیں دیکھو تقویٰ کیسا گم ہو گیا ہے اگر ایک دو آنے رستے میں مل جاویں تو جلدی سے اُٹھالیتا ہے اور پھر اس کو کسی سے نہیں کہتا حالانکہ تقویٰ کا کام یہ تھا کہ اس کو سب کو سناتا اور جس کے ہوتے اس کے حوالہ کرتا۔پھر کہتے ہیں کہ بارش نہیں ہوتی بارش کیسےہو؟ اللہ تعالیٰ بہت سے گناہ تو معاف ہی کر دیتا ہے اگر زیادہ بارش ہو تو دوہائی دیتے ہیں اگر دھوپ زیادہ ہو تو بھی دوہائی دیتے ہیں ان سب حالتوں میں انسان تقویٰ سے خالی ہوتا ہے پس چاہیے کہ صبر کرے اگر صبر نہ کرے تو پھر کافر ہو کر تو روٹی کھانی حرام ہے انسان کو چاہیے کہ کبھی خدا پر اعتراض نہ کرے۔دیکھو ہمارے پیغمبرِ خدا کے ہاں۱۲ لڑکیاں ہوئیں آپ نے کبھی نہیں کہا کہ لڑکا کیوں نہ ہوا اور جب کوئی غم ہوتا تو اِنَّا لِلّٰهِ ہی کہتے رہے اب اگر کسی کا لڑکا مَر جاوے تو برس برس تک روتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ کشائش دیوے تو تعریف کرتے ہیں مگر ذراسختی آجاوے تو فوراً پھر جاتے ہیں۔ایک شخص کی یہاں بیوی فوت ہو گئی وہ فوراً دہریہ ہوگیا۔انسان کو چاہیے کہ علاقہ خدا کے ساتھ ایسا رکھے کہ کبھی سختی آوے تو توڑنا نہ پڑے گویا کبھی نہیں آئی۔حضرت ایوب ؑ کتنے صابر تھے کہ خدا تعالیٰ نے شیطان سے کہا کہ دیکھ میرا بندہ کتنا صابر ہے۔اس نے کہا کہ کیوں نہ ہو بکریاں بہت ہیں آرام سے کھاتا پیتا ہے خدا نے فرمایا کہ میں نے تجھ کو اس کی بکریوں پر مسلّط کیا اس نے سب کو فناکردیا اور حضرت ایوبؑ کے