ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 13 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 13

اسی کے جمع کرنے کاآپ کو حکم تھا سو آپ نے کر دیا۔اب احادیث میں سے وہ قابلِ عمل اور اعتقاد ہے۔جس پر قرآن شریف کی مہر ہو کہ یہ اس کے خلاف نہیں۔پھر اسی پر بس نہیں۔قرآن شریف کہتاہے کہ عیسیٰ مَر گئے اور پھر دوبارہ قیامت تک وہ اس دنیا میں نہیں آئیں گے بلکہ آنے والا اُن کا مثیل ان کی خُو بُو لے کر آوے گا۔جیسا کہ آیت قرآن شریف فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ میں صاف بیان ہے۔تو ہینِ عیسٰیؑ کے اعتراض کا جواب پھر کہتے ہیں کہ سیدنا المسیح کی تو ہین کرتے ہیں۔بھلا سوچو تو کہ ہم اگر اپنے پیغمبرسے ان جھوٹے اعتراضات کو جو نا فہمی اور کور چشمی سے کرکے مسیح کو آسمان پر زندہ بٹھاکر آنحضر ت پر کئے جاتے ہیں ان کے دور کرنے کے واسطے مسیحؑ کی اصلی حقیقت کا اظہار نہ کریں تو کیا کریں؟ ہم اگر کہتے ہیں کہ وہ زندہ نہیں بلکہ مَر گئےہیں جیسے دوسرے انبیاء بھی مَر گئے ہیں تو ان لوگوں کے نزدیک تو یہ بھی ایک قسم کی توہین ہوئی۔ہم تو خدا کے بلائے بولتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ فرشتے آسمان پر کہتے ہیں۔افترا کرنا تو ہمیں آتا نہیں اور نہ ہی افترا خدا کو پیارا ہے۔اب خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ جس طرح آنحضرتؐکی کسر شا ن اورہتک کی گئی ضرور ہے کہ اس کا بدلہ لے لیا جاوے اور آنحضرتؐکے نور اور جلا ل کو دوبا رہ ازسرنوتازہ وشا داب کرکے دکھایا جاوے اور یہ اس مسیح کے بت کے ٹوٹنے اور اس کی موت کے ثابت ہونے میں ہے۔پس ہم خدا کے منشا اور ارادے کے مطابق کرتے ہیں اب ان کی لڑائی ہم سے نہیں بلکہ خدا سے ہے۔ان لوگوں نے تو حضر ت مسیحؑ کو خا صہ خدا بنایا ہوا ہے اور پھر کہلا تے ہیں موحد۔ان کا اعتقادہے کہ وہ زندہ ہے قائم ہے عَلَی السَّمَآء۔خَالِق، رَازِق، غیب دان، مُـحْیِی، مُـمِیْت ہے۔بھلا اب بتاؤ کہ اگر یہ صفات خدا کی نہیں تو کس کی ہیں؟ بشریت تو ان صفات کی حا مل ہوسکتی نہیں۔خدائی میں فرق ہی کیا رہا؟ یہ تو عیسائیوں کو مدددے رہے ہیں۔پورے نہیں نیم عیسائی تو ضرور۔اگر ہم ان کے عقائد ردّیہ کی تردید نہ کریں تو کیا کریں؟ پھر ہمیں ماننا پڑے گا کہ نعوذبا للہ اسلام، آنحضرتؐ، خدا