ملفوظات (جلد 5) — Page 186
۲۸؍جون ۱۹۰۳ء ( مجلس قبل ازعشاء) کیا آدم کے وقت دوسرے انسان موجود تھے ایک صاحب نے سوال کیا کہ آدم علیہ السلام جو خلیفہ بن کر آئے تو اس وقت کون سی قوم موجود تھی جس کے وہ خلیفہ تھے؟ اور اگر کوئی قوم موجود تھی تو پھر حوّا ان کی زوجہ کی نئی پیدائش کی ضرورت نہ تھی۔اسی موجودہ قوم میں سے وہ نکاح کرسکتے تھے۔اس پر حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ حدیث شریف میں ہے کہ بہت سے پیچ درپیچ جو امور غیر مفید ہوں ان کو انسان ترک کردے۔۴ اِنِّيْ جَاعِلٌ فِي الْاَرْضِ خَلِيْفَةً (البقرۃ:۳۱) سے استنباط ایسا ہوسکتا ہے کہ پہلے سے اس وقت کوئی قوم موجود ہو اور دوسری جگہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فر ماتا ہے وَالْجَآنَّ خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ(الـحجر:۲۸) ایک قوم جان بھی آدم سے پہلے موجود تھی۔بخاری کی ایک حدیث میں ہے کہ خدا تعالیٰ ہمیشہ سے خالق ہے اور یہی حق ہے کیونکہ اگر خدا کو ہمیشہ سے خالق نہ مانیں تو اس کی ذات پر (نعوذباللہ) حرف آتا ہے اور ماننا پڑے گا کہ آدم ؑسے پیشتر خدا تعالیٰ معطل تھا لیکن چونکہ قرآن شریف خدا تعالیٰ کی صفات کو قدیمی بیان کرتا ہے اسی لیے اس حدیث کامضمون راست ہے۔قرآن میں جو کوئی ترکیب ہے وہ ان صفات کے استمرار پردلالت کرتی ہیں،۱ لیکن اگر آدمؑ سے ابتدائے خلق ہوتی اور اس سے پیشتر نہ ہوتی تو پھر یہ نحوی ترکیب قرآن میں نہ ہوتی۔۲ باقی رہی لڑکیوں کی بات کہ ان کے موجود ہوتے حوّا کی پیدائش کی کیا ضرورت ہے؟ تو اس طرح سمجھنا چاہیے کہ ممکن ہے کہ جس مقام پر آدم علیہ السلام کی پیدائش ہوئی ہو وہاں کے لوگ کسی عذابِ الٰہی سے ایسے تباہ ہوگئے ہوں کہ آدمی نہ بچا ہو۔۳ دنیا میں یہ سلسلہ جاری ہے کہ کوئی مقام بالکل تباہ ہو جاتا ہے۔کوئی غیر آبادآباد ہو جاتا ہے کوئی برباد شدہ پھر ازسر نو آباد ہوتا ہے۔چنانچہ دیکھ لو