ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 180 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 180

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸۰ جلد پنجم ہیں انسان کو چاہیے کہ کافر نہ بنے مومن بنے اور مومن نہیں ہوتا جب تک کہ دل سے ایمان نہ رکھے کہ سب پرورشیں اور رحمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں ۔ انسان کو اس کا دوست ذرہ بھی فائدہ نہیں دے سکتا جب تک کہ خدا تعالیٰ کا رحم نہ ہو۔ اسی طرح بچے اور تمام رشتہ داروں کا حال ہے اللہ تعالیٰ کا رحم ہونا ضروری ہے خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ دراصل میں ہی تمہاری پرورش کرتا ہوں جب خدا تعالیٰ کی پرورش نہ ہو تو کوئی پرورش نہیں کر سکتا دیکھو جب خدا تعالیٰ کسی کو بیمار ڈال دیتا ہے تو بعض دفعہ طبیب کتنا ہی زور لگاتے ہیں مگر وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔ طاعون کے مرض کی طرف غور کرو سب ڈاکٹر زور لگا چکے مگر یہ مرض دفع نہ ہوا۔ اصل یہ ہے کہ سب بھلائیاں اسی کی طرف سے ہیں اور وہی ہے کہ جو تمام بدیوں کو دور کرتا ہے۔ پھر فرماتا ہے الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الفاتحة : ۲) سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں اور تمام پرورشیں تمام جہان پر اسی کی ہیں۔ الرحمن وہی ہے جس کی رحمتیں بے بدلہ ہیں مثلاً انسان کا کیا عذر تھا اگر اللہ تعالیٰ اسے کتا بنا دیتا تو کیا یہ کہہ سکتا تھا کہ اے اللہ تعالی میر افلاں عمل نیک تھا اس کا بدلہ تو نے نہیں دیا۔ الرحیم اس کے یہ معنے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نیک عمل کے بدلہ نیک نتیجہ دیتا ہے جیسا کہ نماز پڑھنے والا روزہ رکھنے والا صدقہ دینے والا دنیا میں بھی رحم پاوے گا اور آخرت میں بھی چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ (التوبة : ۱۲۰) اور دوسری جگہ فرماتا ہے مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَةً وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَة ( الزلزال : ۹،٨) یعنی اللہ تعالیٰ کسی کے اجر کو ضائع نہیں کرتا جو کوئی ذرہ سی بھی بھلائی کرتا ہے وہ اس کا بدلہ پالیتا ہے۔ ایک یہودی نے کسی شخص کو کہا کہ میں تجھے جادو سکھلا دوں گا شرط یہ ہے کہ تو کوئی بھلائی نہ کرے جب دنوں کی تعداد پوری ہوگئی اور جادو نہ سیکھ سکا تو یہودی نے کہا کہ تو نے ان دنوں میں ضرور کوئی بھلائی کی ہے۔ جس کی وجہ سے تو نے جادو نہیں سیکھا اس نے کہا کہ میں نے کوئی اچھا کام نہیں کیا سوائے اس کے کہ راستہ میں سے کانٹا اٹھایا اس نے کہا بس یہی تو ہے۔ جس کی وجہ سے تو جادو نہ سیکھ سکا۔ تب وہ