ملفوظات (جلد 5) — Page 176
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۶ جلد پنجم چنانچہ اور خاوند نے پھر اس زوجہ کی طرف میلان کر کے اسے اپنے نکاح میں لیا اور وہ بیچاری بفضل خدا اس دن سے اب تک اپنے گھر میں آباد ہے۔ گرمی کا موسم اور اشتیاق زیارت اور کلام کے سننے میں احباب کے مل مل کر بیٹھنے پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ مکان کو وسیع کر دیوے تو یہ شکایت رفع ہو۔ ہر ایک شخص تقاضائے محبت سے آگے آتا ہے اور جگہ ہوتی نہیں ۔ چند ایک احباب نے بیعت کی ۔ اس پر حضرت اقدس نے عبودیت کا سر اور استغفار ان کو نصیحت فرمائی کہ خدا کا منشا ہے کہ انسان تو بہ نصوح کرے اور دعا کرے کہ اس سے گناہ سرزد نہ ہو۔ نہ آخرت میں رسوا ہو نہ دنیا میں ۔ جب تک انسان سمجھ کر بات نہ کرے اور تذلیل اس میں نہ ہو تو خدا تک وہ بات نہیں پہنچتی۔ صوفیوں نے لکھا ہے کہ اگر چالیس دن گزر جاویں اور خدا کی راہ میں رونا نہ آوے تو دل سخت ہو جاتا ہے تو سختی قلب کا کفارہ یہی ہے کہ انسان رو دے۔ اس کے لیے محرکات ہوتے ہیں انسان نظر ڈال کر دیکھے کہ اس نے کیا بنایا ہے اور اس کی عمر کا کیا حال ہے۔ دیگر گذشتگان پر نظر ڈالے پھر انسان کا دل لرزاں وتر ساں ہوتا ہے۔ جو شخص دعوٹی سے کہتا ہے کہ میں گناہ سے بچتا ہوں وہ جھوٹا ہے جہاں شیر ینی ہوتی ہے وہاں چیونٹیاں ضرور آتی ہیں اسی طرح نفس کے تقاضے تو ساتھ لگے ہی ہیں ان سے نجات کیا ہو سکتی ہے؟ خدا کے فضل اور رحمت کا ہاتھ نہ ہو تو انسان گناہ سے نہیں بچ سکتا نہ کوئی نبی نہ ولی اور نہ ان کے لیے یہ فخر کا مقام ہے کہ ہم سے گناہ صادر نہیں ہوتا بلکہ وہ ہمیشہ خدا کا فضل ما نگتے تھے اور نبیوں کے استغفار کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ خدا کے فضل کا ہاتھ ان پر رہے ورنہ اگر انسان اپنے نفس پر چھوڑا جاوے تو وہ ہر گز معصوم اور محفوظ نہیں ہو سکتا اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ اور دوسری دعائیں بھی استغفار کے اس مطلب کو بتلاتی ہیں۔ عبودیت کا سر یہی ہے کہ انسان خدا کی