ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 172 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 172

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۲ جلد پنجم آپس میں رشتہ کا پاس ہوتا ہے ویسا ہی اللہ تعالیٰ کو اپنے بندہ کے رشتہ کا جو وہ اس پاک ذات کے ساتھ ہے سخت پاس ہوتا ہے۔ وہ مولا کریم اس کے لیے غیرت کھاتا ہے اور اگر کوئی دکھ یا مصیبت اس کو پہنچتا ہے تو وہ بندہ اپنے لیے راحت جانتا ہے۔ الغرض کوئی دکھ اس رشتہ کو توڑتا نہیں اور نہ کوئی سکھ اس کو دوبالا کرتا ہے۔ ایک سچا تعلق و حقیقی عشق عبد و معبود میں قائم ہو جاتا ہے اگر ہماری جماعت میں چالیس آدمی بھی ایسے مضبوط رشتہ کے جو رنج وراحت، عسر ویر میں خداتعالی خدا تعالیٰ کی رضا کو کو مقدم کریں، تو تو ہم ہم جان جان لیں کہ کہ ہم ہم جس مطلب کے لیے آئے تھے وہ پورا ہو چکا اور جو کچھ کرنا تھا وہ کر لیا۔ کیسی سوچنے کی بات ہے کہ صحابہ کرام کے تعلقات بھی تو آخر دنیا سے تھے ہی جائیدادیں تھیں، مال تھا ، زر تھا۔ مگر ان کی زندگی پر کس قدر انقلاب آیا کہ سب کے سب ایک ہی دفعہ دستبردار ہو گئے اور فیصلہ کر لیا کہ اِن صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الانعام : ١٦٣) ہمارا سب کچھ اللہ ہی کے لئے ہے۔ اگر اس قسم کے لوگ ہم میں ہو جاویں تو کون سی آسمانی برکت اس سے بزرگ تر ہے؟ بیعت کرنا صرف زبانی اقرار ہی نہیں بلکہ یہ تو اپنے آپ کو فروخت کر دینا ہے خواہ ذلت ہو : نقصان ہو کچھ ہی کیوں نہ ہو کسی کی پروانہ کی جاوے۔ مگر دیکھو اب کس قدر ایسے لوگ ہیں جو اپنے اقرار کو پورا کرتے ہیں۔ بلکہ خدا تعالیٰ کو آزمانا چاہتے ہیں پس یہی سمجھ رکھا ہے کہ اب ہمیں مطلقاً کسی قسم کی تکلیف نہیں ہونی چاہیے اور ایک پرامن زندگی بسر ہو حالانکہ انبیاؤں، قطبوں پر مصائب آئے اور وہ ثابت قدم رہے مگر یہ ہیں کہ ہر ایک تکلیف سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں ۔ بیعت کیا ہوئی گویا خدا تعالیٰ کو رشوت دینی ہوئی ۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا امَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ ( العـ لا يُفْتَنُونَ (العنکبوت: ۳) یعنی کیا یہ لوگ گمان کرتے ہیں کہ یہ فقط کلمہ پڑھ لینے پر ہی ل البدر میں ہے ۔ ” اس میں شک نہیں کہ دنیا ایسا ہی مقام ہے کہ انسان کو اُس میں دُکھ اور مصیبت پیش آتی ہے مگر پیش اُن کا تعلق خدا سے ایسا ہوتا ہے کہ اس دُکھ اور مصیبت میں ایک راحت نظر آتی ہے۔ ( البدر جلد ۲ نمبر ۲۳ مورخه ۲۶ جون ۱۹۰۳ ء صفحہ ۱۷۷)